عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا » (رواه ابو داؤد والدارمى)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان والوں میں زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں ۔ (رواہ ابو داؤد والدارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایمان اور اخلاق میں ایسی نسبت ہے کہ جس کا ایمان کامل ہو گا ، اُس کے اخلاق لازماً بہت اچھے ہوں گے اور علیٰ ہذا جس کے اخلاق بہت اچھے ہوں گے اُس کا ایمان بھی بہت کامل ہو گا ۔ واضح رہے کہ ایمان کے بغیر اخلاق بلکہ کسی عمل کا حتی کے عبادات کا بھی کوئی اعتبار نہیں ٰ ہے ۔ ہر عمل اور ہر نیکی کے لیے ایمان بمنزلہ رُوح اور جان کے ہے ، اس لئے اگر کسی شخصیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے بغیر اخلاق نظر آئے تو وہ حقیقی اخلاق نہیں ہے ، بلکہ اخلاق کی صورت ہے ، اس لئے اللہ کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔