hadith book logo

Maarif ul Hadith

3. کتاب الاخلاق

معارف الحدیث

242
Maarif ul Hadith
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں ۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
دین میں اخلاق کا درجہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم میں ایمان کے بعد جن چیزوں پر بہت زیادہ زور دیا ہے ، اور انسان کی سعادت کو ان پر موقوف بتلایا ہے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اخلاقِ حسنہ اختیار کرے ، اور بُرے اخلاق سے اپنی حفاظت کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے جن مقاصد کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے ، اُن میں ایک یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کو انسانوں کا تزکیہ کرنا ہے (ويزكيهم) اور اس تزکیہ میں اخلاق کی اصلاح اور درستی کی کاص اہمیت ہے ۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں کود آپ سے یہ مضمون روایت کیا گیا ہے ، کہ میں اخلاق کی اصلاح کے لئیے مبعوث کیا گیا ہوں ۔ یعنی اصلاحِ اخلاق کا کام میری بعثت کے اہم مقاصد اور میرے پروگرام کے خاص اجزاء میں سے ہے ۔ اور ہونا بھی یہی چاہئے تھا کیوں کہ انسان کی زندگی اور اس کے نتائج میں اخلاق کی بڑی اہمیت ہے ، اگر انسان کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کی اپنی زندگی بھی قلبی سکون اور خوشگواری کے ساتھ گزرے گی اور دوسروں کے لئے بھی اس کا وجود رحمت اور چین کا سامان ہو گا ، اور اس کے برعکس اگر آدمی کے اخلاق بُرے ہوں ، تو خود بھی وہ زندگی کے لطف و مسرت سے محروم رہے گا اور جن سے اس کا واسطہ اور تعلق ہو گا ان کی زندگیاں بھی بے مزہ اور تلخ ہوں گی ۔ یہ تو خوش اخلاقی اور بداخلاقی کے وہ نقد دنیوی نتیجے ہیں جن کا ہم آپ روز مرہ مشاہدہ اور تجربے کرتے رہتے ہیں ، لیکن مرنے کے بعد والی ابدی زندگی میں ان دونوں کے نتیجے ان سے بدرجہا زیادہ اہم نکلنے والے ہیں ، آخرت میں خوش اخلاقی کا نتیجہ ارحم الراحمین کی رضا اور جنت ہے اور بداخلاقی کا انجام خداوند قہار کا غضب اور دوزخ کی آگ ہے ۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا
اخلاق کی اصلاح کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات حدیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں وہ دو طرح کے ہیں ۔ ایک وہ جن میں آپ نے اصولی طور پر حسنِ اخلاق پر زور دیا ہے اور اُس کی اہمیت و فضیلت اور اس کا غیر معمولی اخروی ثواب بیان فرمایا ہے ، اور دوسرے وہ جن میں آپ نے بعض خاص کاص اخلاقِ حسنہ اختیار کرنے کی یا اسی طرح بعض مخصوص بداخلاقیوں سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے پہلے ہم قسم اول کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات یہاں درج کریں گے ۔
243
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا » (رواه ابو داؤد والدارمى)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایمان والوں میں زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں زیادہ اچھے ہیں ۔ (رواہ ابو داؤد والدارمی)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایمان اور اخلاق میں ایسی نسبت ہے کہ جس کا ایمان کامل ہو گا ، اُس کے اخلاق لازماً بہت اچھے ہوں گے اور علیٰ ہذا جس کے اخلاق بہت اچھے ہوں گے اُس کا ایمان بھی بہت کامل ہو گا ۔ واضح رہے کہ ایمان کے بغیر اخلاق بلکہ کسی عمل کا حتی کے عبادات کا بھی کوئی اعتبار نہیں ٰ ہے ۔ ہر عمل اور ہر نیکی کے لیے ایمان بمنزلہ رُوح اور جان کے ہے ، اس لئے اگر کسی شخصیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے بغیر اخلاق نظر آئے تو وہ حقیقی اخلاق نہیں ہے ، بلکہ اخلاق کی صورت ہے ، اس لئے اللہ کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔
244
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ » (رواه ابو داؤد والترمذى)
حضرت ابو الدرداءؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہْ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشادفرمایا قیامت کے دن مؤمن کی میزان عمل میں سب سے زیادہ وزنی اور بھاری چیز جو رکھی جائے گی ، وہ اس کے اچھے اخلاق ہو گے ۔ (ابو داؤد والترمذی)
245
Maarif ul Hadith
عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ قَالُوْا يَارَسُوْلَ اللهِ مَا خَيْرُ مَا اُعْطِىَ الْاِنْسَانُ؟ قَالَ : " الْخُلُقُ الْحَسَنُ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان والبغوى فى شرح السنة عن اسامة بن شريك)
قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے عرض کیا ، ککہ یا رسول اللہ ! انسان کو جوکچھ عطا ہوا ہے اس میں سب سے بہتر کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ “ اچھے اخلاق ” ۔ (اس کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے اور امام بغوی نے شرح السنہ میں اس حدیث کو اسامہ بن شریک صحابی سے روایت کیا ہے) ۔

تشریح
ان حدیثوں سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہ ہو گا کہ اخلاق حسنہ کا درجہ ایمان یا ارکان سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ صحابہ کرامؓ جو ان ارشادات کے مخاطب تھے اُن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے یہ تو معلوم ہی ہو چکا تھا کہ دین کے شعبوں میں سب سے بڑا درجہ ایماناور توحید کا ہے اور اس کے بعد ارکان کا مقام ہے پھر ان کے بعد دینی زندگی کے جو مختلف اجزاء رہتے ہیں ان میں مختلف جہات سے بعض کو بعض پر فوقیت اور امتیاز حاصل ہے اور بلا شبہ اخلاق کا مقام بہت بلندہے ۔ اور انسانوں کی سعادتاور فلاح میں اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی مقبولیت و محبوبیت میں اخلاق کو یقیناً خاصا لخاص دخل ہے ۔
246
Maarif ul Hadith
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ ، صَائِمِ النَّهَارِ " (رواه ابو داؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ارشاد فرماتے تھے کہ صاحب ایمان بندہ اچھے اخلاق سے اُن لوگوں کا درجہ حاصل کر لیتا ہے جو رات بھر نفلی نمازیں پڑھتے ہوں ، اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتے ہوں ۔ (ابو داؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ کے جس بندہ کا حال یہ ہو کہ وہ عقیدہ اور عمل کے لحاظ سے سچا مؤمن ہو ، اور ساتھ ہی اس کو حسن اخلاق کی دولت بھی نصیب ہو ، تو اگرچہ وہ رات کو زیادہ نفلیں نہ پڑھتا ہو ، اور کثرت سے نفلی روزے نہ رکھتا ہو ، لیکن پھر بھی وہ اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے ان شب بیداروں عبادت گذاروں کا درجہ پا لے گا جو قائل اللیل اور صائم النہار ہوں یعنی جو راتیں نفلوں میں کاٹتے ہوں اور دن کو عموماً روزہ رکھتے ہوں ۔
247
Maarif ul Hadith
عَنْ مُعَاذٍ قَالَ : كَانَ آخِرُ مَا وَصَّانِىْ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ ، اَنْ قَالَ : يَامُعَاذُ " أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ (رواه مالك)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری وصیت مجھے کی تھی جب کہ میں نے اپنا پاؤں اپنی سواری کی رکاب میں رکھ لیا تھا ، وہ یہ تھی کہ آپ کو فرمایا : لوگوں کے لیے اپنے اخلاق کو بہتر بناؤ ، یعنی بندگانِ خدا کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ ۔ (مؤطا امام مالک)

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیبہ کے آخری دور میں حضرت معاذ کو یمن کا گورنربنا کر بھیجا تھا ، مدینہ طیبہ سے اُن کو رخصت کرتے وقت آپ نے خاص اہتمام سے بہت سی نصیحتیں کیں تھی جو حضرت معاذؓ سے مختلفابواب میں مروی ہیں ۔ حضرت معاذؓ کا اشارہ اس حدیث میں اس موقع کی طرف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی سواری پر سوار ہونے لگا ، اور اس کی رکاب میں میں نے پاؤں رکھا ، تو اُس وقت آخری نصیحت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمائی تھی ، کہ اللہ کے بندوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا ۔
واضح رہے کہ خوش اخلاقی کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ جو عادی مجرم اور ظلم پیشہ بدمعاش سختی کے مستحق ہوں اور سختی کے بغیر ان کا علاج نہ ہو سکتا ہو اُن کے ساتھ بھی نرمی کی جائے ، یہ تو اپنے فرائض کی ادائگی میں کوتاہی اور مداہنت ہوگی ۔ بہر حال عدل و انصاف اور اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کی پابندی کے ساتھ مجرموں کی تادیب اور تعزیر کے سلسلہ میں اُن پر سختی کرنا کسی اخلاقی قانون میں بھی حسن اخلاق کے خلاف نہیں ہے ۔
ف ۔ ۔ ۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ حضرت معاذؓ کو یمن رخصت کرتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا تھا کہ شاید اس کے بعد مجھ سے تمہاری ملاقات نہ ہو ، اور بجائے میرے ، میری مسجد اور میری قبر پر تمہارا گزرہو ۔ اور چونکہ آپ کی عامدادت ایسی بات کرنے کی نہ تھی ، اس لیے حضرت معاذ نے اس سے یہی سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں ، اور شاید اب مجھے اس دنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب نہ ہوگی ۔ چنانچہ آپ کا یہ ارشاد سُن کر وہ رو پڑے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ان کو تسلی دی ، کہ" إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا " (اللہ کے متقی بندے جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں وہ مجھ سے قریب رہیں گے) اور یہی ہوا کہ یمن سے حضرت معاذؓ کی واپسی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں نہیں ہوئی ، اور جب آئے تو آپ کی قبر مبارک ہی کو پایا ۔
248
Maarif ul Hadith
عَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ " (رواه فى المؤطا ورواه احمد عن ابى هريرة)
حضرت امام مالکؒ سے روایت ہے کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : میں اس واسطے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاقی خوبیوں کو کمال تک پہنچا دوں ۔ (امام مالکؒ نے اسکو اپنی موطا میں اسی طرح بغیر کسی صحابی کے حوالے کے روایت کیا ہے ، اور اماماحمدؒ نے اپنی مسند میں اس کو حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے) ۔

تشریح
اس روایت سے معلوم ہوا کہ اخلاق کی اصلاح اور مکارم اخلاق کی تکمیل آپ کے خاص مقاصد بعثت میں سے ہے اور جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا قرآن مجید میں جس تزکیہ کو آپ کا خاص کام بتلایا گیا ہے اخلاق کی اصلاح اس کااہم جز ہے ۔
249
Maarif ul Hadith
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍوقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ « إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا » (رواه البخارى)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دوستوں میں مجھے زیادہ محبوب وہ ہیں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہیں ۔ (صحیح بخاری)

تشریح
حضرت جابرؓ کی ایک حدیث میں جس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اس طرح ہے کہ “ إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ أَحسنكُمْ أَخْلَاقًا ” (تم دوستوں میں مجھے زیادہ محبوب وہ ہیں اور قیامت کے دن اُن ہی کی نشست بھی میرے زیادہ قریب ہوگی جن کے اخلاق تم زیادہ بہتر ہیں) گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت اورقیامت کے دن آپ کا قرب نصیب ہونے میں حسن اخلاق کی دولت کو خاص دخل ہے ۔
حسن اخلاق کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بھی بڑھ لیجئے اور اپنے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کیجئے ۔
250
Maarif ul Hadith
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي ، فَأَحْسِنْ خُلُقِي " (رواه احمد)
حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کرتے تھے : “ اے میرے اللہ ! تو نے اپنے کرم سے میرے جسم کی ظاہری بناوٹ بنائی ہے اسی طرح میرے اخلاق بھی اچھے کر ے ” ۔

تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حسن اخلاق کی دعا بہت سے موقعوں پر مختلف الفاظ میں روایت کی گئی ہے ، انشاء اللہ کتاب الدعوات میں آپ کی وہ دعائیں نقل کی جائیں گی ۔ یہاں ان میں سے صرف ایک دعا اور بھی پڑھ لیجئے ۔
صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کی کچھ تفضیل روایت کی گئی ہے ، اسی میں ہے کہ آپ نے دوران نماز میں جو دعائیں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے مانگیں اُن میں سے ایک دعا یہ بھی تھی ۔
وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلاقِ ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا ، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ
اے میرے اللہ ! تو مجھ کو بہتر سے بہتر اخلاق کی رہنمائی کر ، تیرے سوا کوئی بہتر اخلاق کی رہنمائی نہیں کر سکتا ، اور بُرے اخلاق کو میری طرف سے ہٹا دے ، ان کو تیرے سوا کوئی ہٹا بھی نہیں سکتا ۔
یہ حدیثیں حسن اخلاق کی فضیلت و اہمیت سے متعلق تھیں ، اب آگے مختلف عنوانات کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات درج ہوں گے جن میں آپ نے خاص خاص اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دی ہے ، یا بُرے اخلاق سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے ۔
251
Maarif ul Hadith
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمُ النَّاسَ » (رواه البخارى)
حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے محروم رہیں گے جن کے دلوں میں دوسرے آدمیوں کے لیے رحم نہیں اور جو دوسروں پر ترس نہیں کھاتے ۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس حدیث میں “ الناس ” کا لفظ عام ہے ، جو مومن و کافر اور متقی و فاجر سبکو شامل ہے ، اور بلا شبہ رحم سب کا حق ہے ، البتہ کافر اور فاجر کے ساتھ سچی رحمدلی کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ اس کے کفر اور فجور کے انجام کا ہمارے دل میں درد ہو ، اور ہم اس سے اس کو بچانے کی کوشش کریں ، اس کے علاوہ اگر وہ کسی دنیوی اور جسمانی تکلیف میں ہو ، تو اس سے اس کو بچانے کی فکر کرنا بھی رحمدلی کا یقیناً تقاضا ہے ، اور ہم کو اس کا بھی حکم ہے ۔