hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 254

3. کتاب الاخلاق

معارف الحدیث

254
Maarif ul Hadith
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَإِذَا فِيْهِ جَمَلٌ ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَأَتَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ فَسَكَتَ ، فَقَالَ : « مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ ، لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟ » ، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : « أَفَلَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللَّهُ إِيَّاهَا؟ ، فَإِنَّهُ شَكَا إِلَيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ » (رواه ابو داؤد)
عبداللہ بن جعفررضی اللہ عنہسے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے ، وہاں ایک اونٹ تھا ، جب اُس اونٹ نے آپ کو دیکھا ، تو ایسا ڈکرایا اور ایسی درد بھری آواز اُس نے نکالی جیسی بچے کے جدا ہونے پر اونٹنی کی آواز نکلتی ہے ، اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے قریب تشریف لے گئے ، اور آپ نے اس کی کنوتیوں پر اپنا دست شفقت پھیرا (جیسے کہ گھوڑے یا اونٹ پر پیار کرتے وقت ہاتھ پھیرا جاتا ہے) وہ اونٹ خاموش ہوگیا ۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ اونٹ کس کا ہے ؟ اس کا مالک کون ہے ؟ ایک انصاری نو جوان آئے ، اور انہوں نے عرض کیا ، حضرت ! یہ اونٹ میرا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ اس بیچارے بے زبان جانور کے بارہ میں تم اس اللہ سے ڈرتے نہیں جس نے تم کو اس کا مالک بنایا ہے ، اس نے مجھے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو ، اور زیادہ کام لے کر تم اس کو بہت دکھ پہنچاتے ہو ۔ (سنن ابی داؤد)

تشریح
جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے معجزانہ طور پر پرندوں کی بولی سمجھ لیتے تھے ، جس کا ذخر قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا ہے (وَعُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ) اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جانوروں کی بات چیت معجزانہ طور پر سمجھ لیتے تھے ۔ اس حدیث میں اونٹ کی شکایت کو سمجھنے کا ، اور اس سے بعد والی حدیث میں ایک چڑیا کی شکایت کو سمجھنے کا جو ذکر ہے ، بظاہر وہ اسی قبیل سے ہے ، اور گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ ہے ۔ حدیث کی خاص تعلیم یہ ہے کہ جس کے پاس کوئی جانور ہو ، اُس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اُس کے کھلانے پلانے سے غافل نہ ہو ، اور اُس پر کام کا بوجھ بھی اُس کی قوت سے زیادہ نہ ڈالے ۔
دنیا نے “ انسدادِ بے رحمی ” کی ذمہ داری کو اب کچھ سمجھا ہے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اب سے قریباً چودہ سو برس پہلے دنیا کو یہ سکھایا تھا ۔