hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 258

3. کتاب الاخلاق

معارف الحدیث

258
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ ، فَقَالَ : " امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ ، وَأَطْعِمِ الْمِسْكِينَ " (رواه احمد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قساوت قلبی (سخت دلی) کی شکایت کی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو ، اور مسکین کو کھانا کھلایا کرو ۔ (مسند احمد)

تشریح
سخت دلی اور سنگ دلی ایک روحانی مرض اور انسان کی بدبختی کی نشانی ہے ، سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دل اور اپنی روح کی اس بیماری کا حال عرض کر کے آپ سے علاج دریافت کیا تھا ، آپ نے ان کو دو باتوں کی ہدایت فرمائی ، ایک یہ کہ یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا کرو ، اور دوسرے یہ کہ بھوکے فقیر مسکین کو کھانا کھلایا کرو ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتلایا ہوا یہ علاج علم النفس کے ایک خاص اصول پر مبنی ہے ، بلکہ کہنا چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے اُس اصول کی تائید و توثیق ہوتی ہے ، وہ اصول یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے نفس یا قلب میں کوئی خاص کیفیت نہ ہو ، اور وہ اس کو پیداق کرنا چاہے ، تو ایک تدبیر اُس کی یہ بھی ہے کہ اُس کیفیت کے آثار اور لوازم کو وہ اختیار کر لے ، انشاء اللہ کچھ عرصہ کے بعد وہ کیفیت بھی نصیب ہو جائے گی ۔ دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لئے کثرت ذکر کا طریقہ جو حضرات صوفیہ کرام میں رائج ہے ، اُس کی بنیاد بھی اسی اصول پر ہے ۔
بہر حال یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا ، اور مسکین کو کھانا کھلانا دراصل جذبہ رحم کے آ ثار میں سے ہے ، لیکن جب کسی کا دل اس جذبہ سے خالی ہو ، وہ اگر یہ عمل بہ تکل ہی کرنے لگے ، تو انشاء اللہ اس کے قلب میں بھی رحم کی کیفیت پیدا ہو جائے گی ۔