عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ "
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ مومن کی طبیعت اور فطرت میں ہر خصلت کی گنجائش ہے ، سوائے خیانت اور جھوٹ کے ۔ (مسند احمد ، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مومن اگر واقعی مومن ہو ، تو جھوٹ اور خیانت کی اس کی فطرت میں گنجائش نہیں ہو سکتی ، دورسری برائیاں اور کمزوریاں اس میں ہو سکتی ہیں لیکن خیانت اور جھوٹ جیسی خالص منافقانہ عادتیں ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں ، پساگر کسی میں یہ بری عادتیں موجود ہوں ، تو اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کو ایمان کی حقیقت ابھی نصیب نہیں ہوئی ہے ، اور اگر اپنی اس محرومی پر وہ مطمئن نہیں رہنا چاہتا ہے ، تو اس کو ان خلاف ایمان عادتوں سے اپنی زندگی کو پاک رکھنا چاہئے ۔