عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عن جده ، قَالَ : قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « وَيْلٌ لِمَنْ يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ ، وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ » (رواه احمد والترمذى وابو داؤد والدارمى)
بہز بن حکیم بواسطہ اپنے والد معاویہ کے اپنے دادا حیدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لیے اپنے بیان میں جھوٹ بولے ، اس پر افسوس ! اس پر افسوس ! ۔ (مسند احمد ، جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد ، دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ صرف لطفِ صحبت اور ہنسنے ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی بری بات اور بری عادت ہے ، اگرچہ اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا لیکن اولاً تو خود بولنے والے کی زبان جھوٹ سے آلودہ ہوتی ہے ، دوسرے باتوں سے اہل ایمان کے دل میں جو نفرت ہونی چاہئے اس میں بھی کمی آتی ہے ، اور تیسری خرابی یہ ہے کہ لوگوں میں جھوٹی باتیں کرنے کی جرأت اس سے پیدا ہوتی اور جھوٹ کے رواج کو مدد ملتی ہے ۔