عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِىْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ , تَقُوْلُ كَثْرَةَ الْمَالِ الْغِنَى؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " تَقُوْلُ قِلَّةَ الْمَالِ هِيَ الْفَقْرُ؟ " , قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ ذَالِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : " الْغِنَى فِى الْقَلْبِ , وَالْفَقْرُ فِى الْقَلْبِ " (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھ سے ارشاد فرمایا : ابوذر ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال زیادہ ہونے کا نام تونگری ہے ؟ میں نے عرض کیا ، ہاں حضور ! (ایسا ہی سمجھاجاتا ہے) پھر آپ نے فرمایا : کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ مال کم ہونے کا نام فقیری اور محتاجی ہے ؟ میں نے عرض کیا ، ہاں حضور ! (ایسا ہی خیال کیا جاتا ہے) یہ بات آپ نے مجھ سے تین دفعہ ارشاد فرمائی ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا ، اصلی دولتمندی دل کے اندر ہوتی ہے ، اور اصلی محتاجی اور فقیری بھی دل ہی میں ہوتی ہے ۔ (معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
حقیقت یہی ہے کہ تونگری اور محتاجی ، خوشحالی اور بدحالی کا تعلق روپیہ ، پیسہ سے زیادہ آدمی کے دل سے ہے ، اگر دل غنی اوربے نیاز ہے ، تو آدمی نچنت اور خوشحال ہے اور اگر دل حرص و طمع کا گرفتار ہے ، تو دولت کے ڈھیروں کے باوجود وہ خوشحالی سے محروم اور محتاج و پریشان حال ہے ، سعدی علیہ الرحمہ کا مشہور قول ہے :
تونگری بدل ست نہ بہ مال