عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، أَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ » قَالُوا : وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ : " الرِّيَاءُ . (رواه احمد)
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خطرہ “ شرک اصغر ” کا ہے ۔ بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! “ شرک اصغر ” کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا ، ریا (یعنی کوئی نیک کام لوگوں کے دکھاوے کے لئے کرنا) (مسند احمد)
تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کا اصل مقصد و منشاء اپنے امتیوں کو اس خطرہ سے خبردار کرنا ہے تا کہ وہ ہوشیار رہیں ، اور اس خفیہ قسم کے شرک سے بھی اپنے دلوں کی حفاظت کرتے رہیں ، ایسا نہ ہو کہ شیطان ان کو اس خفی قسم کے شرک میں مبتلا کر کے تباہ کر دے ۔