عَنْ أَبِىْ سَعِيد الْخُدْرِى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ» (رواه مسلم)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی تم میں سے کوئی بری اور خلاف شرع بات دیکھے ، تو لازم ہے کہ اگر طاقت رکھتا ہو ، تو اپنے ہاتھ سے (یعنی زور و قوت سے) اس کو بدلنے کی (یعنی درست کرنے کی) کوشش کرے ، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو ، تو پھر اپنی زبان سے اس کو بدلنے کی کوشش کرے ، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل ہی سے اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے ۔ (مسلم)
تشریح
اس سے پہلی حدیث میں ایک خاص طبقے کی بدکاری اور بدکرداری کے خلاف حسب استطاعت جدو جہد کو لازمہ ایمان قرار دیا گیا تھا ، اور اس حدیث میں ہر برائی اور ہر شرارت کو روکنے اور اس کو بدل ڈالنے کی بقدر استطاعت سعی و کوشش کا عام حکم فرمایا گیا ہے ، اور اوپر والی حدیث کی طرح یہاں بھی اس کے تین درجے بتلائے گئے ہیں ۔
۱۔ اگر طاقت و اقتدار حاصل ہو اور اس کے ذریعہ اس برائی کو روکا جا سکتا ہو ، تو طاقت استعمال کر کے اس کو روکا جائے ۔
۲۔ اگر طاقت و اقتدار اپنے ہاتھ میں نہیں ہے تو زبانی افہام و تفہیم اور پند و نصیحت ہی سے اس کو روکنے کی اور اصلاح کی کوشش کی جائے ۔
۳۔ اگر حالات ایسے ناموافق ہیں اور اہلِ دین اس قدر کمزور پوزیشن میں ہیں کہ اس برائی کے خلاف زبان کھولنے کی بھی گنجائش نہیں ہے ، تو آخری درجہ یہ ہے کہ دل میں اس کو برا سمجھا جائے اور اس کو مٹانے اور بدل کا جذبہ دل میں رکھا جائے ، جس کا فطری نتیجہ کم از کم یہ ہو گا کہ دل اللہ تعالیٰ سے اس کے مٹانے کی دعا کرتا رہے گا ، اور تدبیریں بھی سوچا کرے گا ۔ اس آخری درجے کو حدیث میں “أَضْعَفُ الْإِيمَانِ” فرمایا گیا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایمان کا وہ آخری کمزور درجہ ہے ، کہ اس کے بعد کوئی اور درجہ ایمان کا ہے ہی نہیں ، یہی بات پہلی حدیث میں دوسرے لفظوں میں فرمائی گئی تھی ۔
اس حدیث کی رو سے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جو برائیاں اس کے سامنے اس قسم کی ہوں ، جو زور و قوت سے روکی جا سکتی ہوں ، تو اگر اس کو وہ زور قوت حاصل ہو تو اس کو استعمال کر کے وہ اس برائی کو روکنے کی کوشش کرے ، اور اگر زور قوت ہاتھ سے خالی ہو تو پھر زبانی افہام و تفہیم سے کام لے ، اور اگر حالات میں اس کی بھی گنجائش نہ ہو تو پھر کم از کم دل میں اس کے خلاف جذبہ اور سوزش ہی رکھے ۔