عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ ، فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ ، قَالَ : فَقَالَ : « يَا أَبَا ذَرٍّ » قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : « إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ ، فَتَهَافَتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا يَتَهَافَتُ هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ » (رواه احمد)
حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن سردی کے ایام میں باہر تشریف لے گئے اور درختو ں کے پتے (خزاں کے سبب سے) از خود جھڑ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کی دوٹہنیوں کو پکڑا (اور ہلایا) تو ایک دم اس کے پتے جھڑنے لگے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا : اے ابو ذر ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مؤمن بندہ خالص اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ان پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔
تشریح
یعنی جس طرح آفتاب کی شعاعوں اور موسم کی خاص ہواؤں نے ان پتوں کو خشک کر دیا ہے اور اب یہ ہوا کے معمولی جھونکوں سے ذرا حرکت دینے سے اس طرح جھڑتے ہیں اسی طرح جب بندہ مومن پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر صرف اس کی رض وجوئی کے لئے نماز پڑھتا ہے تو انوارِ الٰہی کی شعاعیں اور رحمت الہی کے جھونکے اس کے گناہوں کی گندگی کو فنا اور اس کے قصوروں کے خس و خاشاک کو اس سے جدا کر کے اس کو پاک صاف کر دیتے ہیں ۔