hadith book logo

Maarif ul Hadith

5. کتاب الصلوٰۃ

معارف الحدیث

474
Maarif ul Hadith
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ » (رواه مسلم)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بندہ کے اور کفر کے درمیان نماز چھوڑ دینے ہی کا فاصلہ ہے ۔ (صحیح مسلم)

تشریح
نماز کی عظمت و اہمیت اور اس کا امتیاز
حضرات انبیاء علیہم السلام ، اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ، کمالات و احسانات اور اس کی تقدیس و توحید کے بارے میں جو کچھ بتلاتے ہیں اس کو مان لینے اور اس پر ایمان لے آنے کا پہلا قدرتی اور بالکل فطری تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے حضور میں اپنی فدویت و بندگی ، محبت و شیفتگی اور محتاجی و دریوزہ گری کا اظہار کر کے اس کا قرب اور اس کی رحمت و رضا حاصل کرے ۔ نماز کا اصل موضوع دراصل یہی ہے ۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نماز اس مقصد کے حصول کا بہترین وسیلہ ہے ۔ اسی لیے ہر نبی کی تعلیم میں اور ہر آسمانی شریعت میں ایمان کے بعد پہلا حکم نماز ہی کا رہا ہے ۔ اور اسی لیے اللہ کی نازل کی ہوئی آخری شریعت (شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم) میں نماز کے شرائط و ارکان اور سنن و آداب اور اسی طرح کے مفسدات و مکروہات وغیرہ کے بیان کا اتنا اہتمام کیا گیا ہے اور اس کو اتنی اہمیت دی گئی ہے جو اس کے علاوہ کسی دوسری طاعت و عبادت کو بھی نہیں دی گئی ۔
حضرت شاہ والی اللہ رحمۃ اللہ علیہ حجۃ اللہ البالغہ میں نماز کا بیان شروع کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
اعْلَم أَن الصَّلَاة أعظم الْعِبَادَات شَأْنًا وأوضحها برهانا وأشهرها فِي النَّاس وأنفعها فِي النَّفس ، وَلذَلِك اعتنى الشَّارِع بِبَيَان فَضلهَا وَتَعْيِين أَوْقَاتهَا وشروطها وأركانها وآدابها ورخصها ونوافلها اعتناء عَظِيم لم يفعل فِي سَائِر أَنْوَاع الطَّاعَات ، وَجعلهَا من أعظم شَعَائِر الدّين. (ص 186)
یعنی نماز اپنی عظمت شان اور مقتضائے عقل و فطرت ہونے کے لحاظ سے تمام عبادات میں کاص امتیاز رکھتی ہے اور خدا شناس و خدا پرست انسانوں میں سب سے زیادہ معروف و مشہور اور نفس کے تزکیہ اور تربیت کے لیے سب سے زیادہ نفع مند ہے اور اسی لئے شریعت نے اس کی فضیلت اس کے اوقات کے تعیین و تحدید اور اس کے شرائط و ارکان اور آداب و نوافل اور اس کی رخصتوں کے بیان کا وہ اہتمام کیا ہے جو عبادات و طاعات کی کسی دوسری قسم کے لیے نہیں کیا اور انہی خصوصیات و امتیازات کی وجہ سے نماز کو دین کا عظیم ترین شعار اور امتیازی نشان قرار دیا گیا ہے ۔
اور اسی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر نماز کے اجزاء اصلیہ اور اس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وأصل الصَّلَاة ثَلَاثَة أَشْيَاء أَن يخضع الْقلب عِنْد مُلَاحظَة جلال الله وعظمته ، ويعبر اللِّسَان عَن تِلْكَ العظمة ، وَذَلِكَ الخضوع أفْصح عبارَة وَأَن يُؤَدب الْجَوَارِح حسب ذَلِك الخضوع.
یعنی ۔ نماز کے اصل عناصر تین ہیں : ایک یہ کہ قلب اللہ تعالیٰ کی لا انتہا عظمت و جلال کے دھیان سے سرافگند ہو ۔ اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی اس عظمت و کبریائی اور اپنی عاجزی و سرافگندگی کو بہتر سے بہتر الفاظ میں اپنی زبان سے ادا کرے اور تیسرے یہ کہ باقی تمام ظاہری اعضاء کو بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اپنی عاجزی و بندگی کی شہادت کے لئے استعمال کرے ۔ پھر اسی سلسلہ کلام میں چند سطر کے بعد فرماتے ہیں :
أما الصَّلَاة فَهِيَ المعجون الْمركب من الْفِكر المصروف تِلْقَاء عَظمَة الله .....وَمن الْأَدْعِيَة المبينة إخلاص عمله لله وتوجيه وَجهه تِلْقَاء الله وَقصر الِاسْتِعَانَة فِي الله ، وَمن أَفعَال تعظيمية كالسجود وَالرُّكُوع يصير كل وَاحِد عضد الآخر ومكمله والمنبه عَلَيْهِ.
یعنی نماز کی حقیقت تین اجزاء سے مرکب ہے ۔ ایک اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا تفکر و استحضار ۔ دوسرے چند ایسی دعائیں اور ایسے اذکار جن سے یہ بات ظاہر ہو کہ بندہ کی بندگی اور اس کے اعمال خالص اللہ کے لئے ہیں اور وہ اپنا رخ یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کر چکا ہے اور اپنی حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی مدد چاہتا ہے اور تیسرے چند تعظیمی افعال جیسے رکوع و سجدہ وغیرہ ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تکمیل کرتا ہے اور اس کی طرف دعوت و ترغیب کا ذریعہ بنتا رہتا ہے ۔ آگے فرماتے ہیں :
وَالصَّلَاة مِعْرَاج الْمُؤمن معدة للتجليات الأخروية..... وَسبب عَظِيم لمحبة الله وَرَحمته..... وَإِذا تمكنت من العَبْد اضمحل فِي نور الله ، وكفرت عَنهُ خطاياه..... وَلَا شَيْء أَنْفَع من سوء الْمعرفَة مِنْهَا لَا سِيمَا إِذا فعلت أفعالها وأقوالها على حُضُور الْقلب وَالنِّيَّة الصَّالِحَة..... وَإِذا جعلت رسما مَشْهُورا انفعت من غوائل الرَّسْم نفعا بَينا ، وَصَارَت شعار للْمُسلمِ يتَمَيَّز بِهِ من الْكَافِر..... وَلَا شَيْء فِي تمرين النَّفس على انقياد الطبيعة لِلْعَقْلِ وجريانها فِي حِكْمَة مثل الصَّلَاة. ص 72 ، 73 جلد (1)
اس عبارت میں حضرت شاہ صاحب نے نماز کی مندرجہ ذیل چند خصوصیات اور تاثیرات بیان کی ہیں ، اول یہ کہ وہ اہل ایمان کی معراج ہے اور آخرت میں تجلیات الہی کے جو نظارے اہل ایمان کو نصیب ہونے والے ہیں ، ان کی استعداد اور صلاحیت پیدا کرنے کا وہ خاص ذریعہ ہے ۔ دوم یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت و رحمت کے حصول کا وسیلہ ہے ۔ سوم یہ کہ نماز کی حقیقت جب کسی بندہ کو حاصل ہو جاتی ہے اور اس کی روح پر نماز کی کیفیت کا غلبہ ہو جاتا ہے تو وہ بندہ نور الہی کی موجوں میں ڈوب کر گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے (جیسے کہ کوئی میلی کچیلی چیز دریا کی موجوں میں پڑ کر پاک صاف ہو جاتی ہے یا جیسے لوہا آگ کی بھٹی میں رکھ کر صاف کیا جاتا ہے) ۔۔۔ چہارم یہ کہ نماز جب حضور قلب اور صادق نیت کے ساتھ پڑھی جائے تو غفلت اور برے خیالات و وساوس کے ازالہ کی وہ بہترین اور بے مثل دوا ہے ۔ پنجم یہ کہ نماز کو جب پوری امت مسلمہ کے لیے ایک معروف و مقرر رسم اور عمومی وظیفہ بنا دیا گیا تو اس کی وجہ سے کفر و شرک اور فسق و ضلال کی بہت سی تباہ کن رسوم سے حفاظت کا فائدہ بھی حاصل ہو گیا اور مسلمانوں کا وہ ایک ایسا امتیازی شعار اور دینی نشان بن گیا ، جس سے کافر اور مسلم کو پہچانا جا سکتا ہے ۔
ششم یہ کہ طبیعت کو عقل کی رہنمائی کا پابند اور اس کا بابع فرمان بنانے کی مشق کا بہترین ذریعہ یہی نماز کا نظام ہے ۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے نماز کی یہ تمام خصوصیات و تاثیرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف ارشادات سے اخذ کی ہیں اور ہر ایک کا حوالہ بھی دیا ہے ، لیکن چونکہ وہ پوری حدیثیں آگے اپنی اپنی جگہ پر آنے والی ہیں اس لئے ہم نے شاہ صاحب کے حوالوں کو اس عبارت سے حذف کر دیا ہے ۔
نماز کی عظمت و اہمیت اور اس کے امتیاز کے بارے میں جو کچھ مذکورہ بالا اقتباسات میں شاہ صاحب نے فرمایا ہے ہم اس کو بالکل کافی سمجھتے ہوئے اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔ اب ناظرین کرام شاہ صاحب کے ان ارشادات کو ذہن میں رکھ کر نماز سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پڑھیں ۔

تشریح ..... مطلب یہ ہے کہ نماز دین اسلام کا ایسا شعار ہے اور حقیقت ایمان سے اس کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ اس کو چھوڑ دینے کے بعد آدمی گویا کفر کی سرحد میں پہنچ جاتا ہے ۔
475
Maarif ul Hadith
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ » (رواه احمد والترمذى والنسائى وابن ماجه)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمارے اور اسلام قبول کرنے والے عام لوگوں کے درمیان نماز کا عہد و میثاق ہے ، (یعنی ہر اسلام لانے والے سے ہم نماز کا عہد لیتے ہیں جو ایمان کی خاص نشانی اور اسلام کا شعار ہے) پس جو کوئی نماز چھوڑ دے تو گویا اس نے اسلام کی راہ چھوڑ کے کافرانہ طریقہ اختیار کر لیا ۔
476
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي أَنْ : « لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ ، وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا ، فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ، وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ » (رواه ابن ماجه)
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے خلیل و محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ اللہ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا اگرچہ تمہارے ٹکڑے کر دئیے جائیں اور تمہیں آگ میں بھون دیا جائے ، اور خبردار کبھی بالارادہ نماز نہ چھوڑنا ، کیوں کہ جس نے دیدہ و دانستہ اور عمداً نماز چھوڑ دی تو اس کے بارہ میں وہ ذمہ داری ختم ہو گئی جو اللہ کی طرف سے اس کے وفادار اور صاحب ایمان بندوں کے لیے ہے ، اور خبردار شراب کبھی نہ پینا کیوں کہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ)

تشریح
جس طرح ہر حکومت پر اس کی رعایا کے کچھ حقوق ہوتے ہیں ، اور رعایا جب تک بغاوت جیسا کوئی سنگین جرم نہ کرے ان حقوق کی مستحق سمجھی جاتی ہے ، اسی طرح مالک الملک حق تعالیٰ شانہ نے تمام ایمان والوں اور دین اسلام قبول کرنے والوں کے لیے کچھ خاص احسانات و انعامات کی ذمہ داری محض اپنے لطف و کرم سے لے لی جاتی ہے (جس کا ظہور ان شاء اللہ آخرت میں ہو گا) اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے بتا دیا ہے کہ دیدہ و دانستہ اور بالارادہ نماز چھوڑ دینا دوسرے تمام گناہوں کی طرح صرف ایک گناہ نہیں ہے بلکہ باغیانہ قسم کی ایک سرکشی ہے جس کے بعد وہ شخص رب کریم کی عنایت کا مستحق نہیں رہتا اور رحمت خداوندی اس سے بری الذمہ ہو جاتی ہے ۔
اسی مضمون کی ایک حدیث بعض دوسری کتابوں میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ذکر کی گئی ہے ، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بارہ میں قریب قریب انہی الفاظ میں تاکید و تنبیہ فرمائی ہے ، لیکن اس کے آخری الفاظ تارک نماز کے بارہ میں یہ ہے :
فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْمِلَّةِ
جس نے دیدہ و دانستہ اور عمداً نماز چھوڑ دی تووہ ہماری ملت سے خارج ہو گیا ۔ (رواہ الطبرانی ، الترغیب للمنذری)
ان حدیثوں میں ترک نماز کو کفریا ملت سے خروج اسی بناء پر فرمایا ہے کہ نماز ایمان کی ایسی اہم نشانی اور اسلام کا ایسا خاص الخاص شعار ہے کہ اس کو چھوڑ دینا بظاہر اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کو اللہ و رسول سے اور اسلام سے تعلق نہیں رہا اور اس نے اپنے کو ملت اسلامیہ سے الگ کر لیا ہے ۔ خاص کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سعادت میں چونکہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان ہونے کے بعد تارک نماز بھی ہو سکتا ہے اس لئے اس دور میں کسی کا تاررک نماز ہونا اس کے مسلمان نہ ہونے کی عام نشانی تھی ۔ اور اس عاجز کا خیال ہے کہ جلیل القدر تابعی عبد اللہ بن شفیق نے صحابہ کرام کے بارے میں جو یہ فرمایا ہے کہ :
كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْاَعْمَالِ تَرْكَهُ كُفْرًا غَيْرَ الصَّلَاةِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام نماز کے سوا کسی عمل کے ترک کرنے کو بھی کفر نہیں سمجھتے تھے ۔ (مشکوٰۃ بحوالہ جامع ترمذی) تو اس عاجز کے نزدیک اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ صحابہ کرام دین کے دوسرے ارکان و اعمال مثلاً روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، جہاد اور اسی طرح اخلاق و معاملات وغیرہ ابواب کے احکام میں کوتاہی کرنے کو تو بس گناہ اور معصیت سمجھتے تھے ، لیکن نماز چونکہ ایمان کی نشانی اور اس کا عملی ثبوت ہے اور ملت اسلامیہ کا خاص شعار ہے ، اس لیے اس کے ترک کو وہ دین اسلام بے تعلقی اور اسلامی ملت سے خروج کی علامت سمجھتے تھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
ان حدیثوں سے امام احمد بن حنبلؒ اور بعض دوسرے اکابر امت نے تو یہ سمجھا ہے کہ نماز چھوڑ دینے سے آدمی قطعاً کافر اور مرتد ہو جاتا ہے اور اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا حتی کہ اگر وہ اسی حال میں مر جائے تو اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی جائے گی اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی ۔ بہر حال اس کے احکام وہی ہوں گے جو مرتد کے ہوتے ہیں ۔ گویا ان حضرات کے نزدیک کسی مسلمان کا نماز چھوڑ دینا بت یا صلیب کے سامنے سجدہ کرنے یا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرنے کی طرح کا ایک عمل ہے جس سے آدمی قطعاً کافر ہو جاتا ہے خواہ اس کے عقیدہ میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو ۔
لیکن ۔۔۔ دوسرے اکثر ائمہ حق کی رائے یہ ہے کہ ترک نماز اگرچہ ایک کافرانہ عمل ہے ، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ، لیکن اگر کسی بدبخت نے صرف غفلت سے نماز چھوڑ دی ہے مگر اس کے دل میں نماز سے انکار اور عقیدہ میں کوئی انحراف نہیں پیدا ہوا ہے تو اگرچہ وہ دنیا و آخرت میں سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے لیکن اسلام سے اور ملت اسلامیہ سے اس کا تعلق بالکل ٹوٹ نہیں گیا ہے اور اس پر مرتد کے احکام جاری نہیں ہو گے ، ان حضرات کے نزدیک مندرجہ بالا احادیث میں ترک نماز کو جو کفر کہا گیا ہے اس کا مطلب کافرانہ عمل ہے اور اس گناہ کی انتہائی شدت اور خباثت ظاہر کرنے کےلئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے ، جس طرح کسی مضر غذا یا دوا کے لیے کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بالکل زہر ہے ۔
477
Maarif ul Hadith
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : ذَكَرَ اَمْرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا؟ كَانَتْ لَهُ نُورًا ، وَبُرْهَانًا ، وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ ، وَلَا بُرْهَانٌ ، وَلَا نَجَاةٌ ، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ ، وَفِرْعَوْنَ ، وَهَامَانَ ، وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ " (رواه احمد والدارمى والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بارے میں گفتگو فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ نماز اہتمام سے ادا کرے گا تو وہ قیامت کے دن اس کے واسطے نور ہو گی ، (جس سے قیامت کی اندھیریوں میں اس کو روشنی ملے گی اور اس کے ایمان اور اللہ تعالیٰ سے اس کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی نشانی) اور دلیل ہو گی ، اور اس کے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی ، اور جس شخص نے نماز کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کیا (اور اس سے غفلت اور بے پروائی برتی) تو وہ اس کے واسطے نہ نور بنے گی ، نہ برہان اور نہ ذریعہ نجات ، اور وہ بدبخت قیامت میں قارون ، فرعون ، ہامان اور مشرکین مکہ کے سرغنہ) ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا ۔ (مسند احمد ، مسند دارمی ، شعب الایمان للبیہقی)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ نماز سے لاپرواہی وہ جرم عظیم ہے جو آدمی کو اس جہنم میں پہنچائے گا جہاں فرعون و ہامان اور قارون اور ابی بن خلف جیسے خدا کے باغی ڈالے جائیں گے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ جہنم میں جانے والے سب لوگوں کا عذاب ایک ہی درجہ کا نہ ہو گا ، ایک قید خانہ میں بہت سے قیدی ہوتے ہیں اور اپنے اپنے جرائم کے مطابق ان کی سزائیں مختلف ہوتی ہیں ۔ ظلمات بعضها فوق بعض
478
Maarif ul Hadith
عَنْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ » (رواه احمد وابوداؤد)
پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں جس نے ان کے لیے اچھی طرح وضو کیا اور ٹھیک وقت پر ان کو پڑھا اور رکوع سجود بھی جیسے کرنے چاہئیں ویسے ہی کئے اور خشوع کی صفت کے ساتھ ان کو ادا کیا تو ایسے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کا پکا وعدہ ہے کہ وہ اس کو بخش دے گا اور جس نے ایسا نہیں کیا (اور نماز کے بارہ میں اس نے کوتاہی کی) تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں ہے چاہے تو اس کو بخش دے گا اور چاہے گا تو سزا دے گا ۔ (مسند احمد ، سنن ابی داؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو صاحب ایمان بندہ اہتمام اور فکر کے ساتھ نماز اچھی طرح ادا کرے گا تو اولاً تو وہ خود ہی گناہوں سے پرہیز کرنے والا ہو گا اور اگر شیطان یا نفس کے فریب سے کبھی اس سے گناہ سرزد ہوں گے تو نماز کی برکت سے اس کو توبہ و استغفار کی توفیق ملتی رہے گی (جیسا کہ عام تجربہ اور مشاہدہ بھی ہے) اور اس سب کے علاوہ نماز اس کے لئے کفارہ سیئات بھی بنتی رہے گی اور پھر نماز خود گناہوں کے میل کچیل کو صاف کرنے والی اور بندہ کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و عنایت کا مستحق بنانے والی وہ عبادت ہے جو فرشتوں کے لئے بھی باعث رشک ہے ، اس لئے جو بندے نماز کے شرائط و آداب کا پورا اہتمام کرتے ہوئے خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کے عادی ہوں گے ان کی مغفرت بالکل یقینی ہے ، اور جو لوگ دعوائے اسلام کے باوجود نماز کے بارے میں کوتاہی کریں گے (ان کے حالات کے مطابق) اللہ تعالیٰ جو فیصلہ چاہے گا کرے گا ، چاہے ان کو سزا دے یا اپنی رحمت سے معاف فرما دے اور بخش دے ۔ بہر حال وہ سخت خطرہ میں ہیں اور ان کی مغفرت اور بخشش کی کوئی گارنٹی نہیں ۔
479
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ؟ » قَالُوا : لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ، قَالَ : « فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا بتلاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پر نہر جاری ہو جس میں روزانہ پانچ دفعہ وہ نہاتا ہو تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ کچھ بھی نہیں باقی رہے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالکل یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے ، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے خطاؤں کو دھوتا اور مٹاتا ہے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

تشریح
صاحب ایمان بندہ جس کو نماز کی حقیقیت نصیب ہو ۔ جب نماز میں مشغول ہوتا ہے تو اس کی روح گویا اللہ تعالیٰ کے بحر جلال و جمال میں غوطہ زن ہوتی ہے ، اور جس طرح کوئی میلا کچیلا اور گندہ کپڑا دریا کی موجوں پر پڑ کر پاک و صاف اور اجلا ہو جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے جلال و جمال کے انوار کی موجیںاس بندہ کے سارے میل کچیل کو صاف کر دیتی ہیں ، اور جب دن میں پانچ دفعہ یہ عمل ہو تو ظاہر ہے کہ اس بندہ میں میل کچیل کا نام و نشان بھی نہ رہ سکے گا پس یہی حقیقیت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مثال کے ذریعہ سمجھائی ہے ۔ اگلی حدیث نمبر ۷ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات ایک دوسرے انداز میں اور دوسری مثال کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے ۔
480
Maarif ul Hadith
عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ ، فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ ، قَالَ : فَقَالَ : « يَا أَبَا ذَرٍّ » قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : « إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ ، فَتَهَافَتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا يَتَهَافَتُ هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ » (رواه احمد)
حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن سردی کے ایام میں باہر تشریف لے گئے اور درختو ں کے پتے (خزاں کے سبب سے) از خود جھڑ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کی دوٹہنیوں کو پکڑا (اور ہلایا) تو ایک دم اس کے پتے جھڑنے لگے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا : اے ابو ذر ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مؤمن بندہ خالص اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ان پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔

تشریح
یعنی جس طرح آفتاب کی شعاعوں اور موسم کی خاص ہواؤں نے ان پتوں کو خشک کر دیا ہے اور اب یہ ہوا کے معمولی جھونکوں سے ذرا حرکت دینے سے اس طرح جھڑتے ہیں اسی طرح جب بندہ مومن پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر صرف اس کی رض وجوئی کے لئے نماز پڑھتا ہے تو انوارِ الٰہی کی شعاعیں اور رحمت الہی کے جھونکے اس کے گناہوں کی گندگی کو فنا اور اس کے قصوروں کے خس و خاشاک کو اس سے جدا کر کے اس کو پاک صاف کر دیتے ہیں ۔
481
Maarif ul Hadith
عَنْ عُثْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « يَقُولُ مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ » (رواه مسلم)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مسلمان آدمی فرض ۔۔۔

تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کی یہ تاثیر اور برکت کہ وہ سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور پہلے گناہوں کی گندگی کو دھو ڈالتی ہے اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ آدمی کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو ، کیوں کہ کبیرہ گناہوں کی نحوست اتنی غلیظ ہوتی ہے اور اس کے ناپاک اثرات اتنے گہرے ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف توبہ ہی سے ہو سکتا ہے ، ہاں اللہ تعالیٰ چاہے تو یونہی معاف فرما دے اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں ۔
482
Maarif ul Hadith
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلًا عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ » (رواه مسلم)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے ، پھر اللہ کے حضور میں کھڑے ہو کر پوری قلبی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے ، تو جنت اس کے لیے ضرور واجب ہو جائے گی ۔ (صحیح مسلم)
483
Maarif ul Hadith
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، لَا يَسْهُو فِيهِمَا ، غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " (رواه احمد)
حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ کا جو بندہ ایسی دورکعت نماز پڑھے جس میں اس کو غفلت بالکل نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس نماز ہی کے صلہ میں اس کے سارے سابقہ گناہ معاف فرمادےگا۔

تشریح
مندرجہ بالا حدیثوں کی تشریح میں اوپر جو کچھ لکھا جا چکا ہے ، وہی اس حدیث کی تشریح کے لیے بھی کافی ہے ۔
افسوس کیسی بد بختی ہے کہ نماز کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ترہیبی اور ترغیبی ارشادات کے باوجود امت کی بڑی تعداد آج نماز سے غافل اور بے پروا ہو کر اپنے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے الطاف و عنایات سے محروم اور اپنی دنیا و آخرت کو برباد کر رہی ہے ۔ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ ، وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ