عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ ، فَتَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ". (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز (ایسے وقت) پڑھا کرتے تھے کہ عورتیں (نماز سے فارغ ہو کر اپنی چادروں میں لپٹی واپس جاتی تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جا سکتیں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سویرے ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ نماز ختم ہونے کے بعد بھی اتنا اندھیرا رہتا تھا کہ مسجد سے اپنے گھر کو واپس جانے والی کواتین کو جو اپنی چادروں میں لپٹی لپٹائی ہوتی تھیں ان کا کوئی جاننے پہچاننے والا ان کے قد و قامت اور انداز رفتار سے پہچان نہیں سکتا تھا ۔