عَنْ صفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا؟ قَالَ: " نَعَمْ " قِيلَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا؟ قَالَ: " نَعَمْ " فَقِيلَ لَهُ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ قَالَ: " لَا " (رواه مالك والبيهقى فى شعب الايمان مرسلا)
حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا ، کہ : کیا مسلمان بزدل ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ، “ہاں ,! (مسلمان میں یہ کمزوری ہو سکتی ہے) ” ۔ پھر عرض کیا گیا : کیا مسلمان بخیل ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : “ہاں ,! (مسلمان میں یہ کمزوری ہو سکتی ہے) ” ۔ پھر عرض کیا گیا : کیا مسلمان کذاب (یعنی بہت جھوٹا) ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا “نہیں ! (یعنی ایمان کے ساتھ بیباکانہ جھوٹ کی ناپاک عادت جمع نہیں ہو سکتی ، اور ایمان جھوٹ کو برداشت نہیں کر سکتا) ”۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ بخل اور بزدلی اگرچہ بُری عادتیں ہیں ، لیکن یہ دونوں انسان کی کچھ ایسی فطری کمزوریاں ہیں ، کہ ایک مسلمان میں بھی یہ ہو سکتی ہیں ، لیکن جھوٹ کی عادت میں اور ایمان میں ایسی منافات ہے ، کہ یہ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے ۔