hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 509

5. کتاب الصلوٰۃ

معارف الحدیث

509
Maarif ul Hadith
عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلاَلٍ : يَا بِلاَلُ ، إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ ، وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ ، وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ ، وَالمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ ، وَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي. (رواه الترمذى)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم اذان دو تو آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر دیا کرو (یعنی ہر کلمہ پر سانس توڑ دو اور وقفہ کیا کرو) اور جب اقامت کہو تو رواں کہا کرو ، اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا فصل کیا کرو کہ جو شخص کھانے پینے میں مشغول ہے ، وہ فارغ ہو جائے اور جس کو استنجے کا تقاضا ہے وہ جا کر اپنی ضرورت سے فارغ ہو لے اور کھڑے نہ ہوا کرو جب تک کہ مجھے دیکھ نہ لو ۔ (جامع ترمذی)

تشریح
اس حدیث میں اذان و اقامت سے متعلق جو ہدایات دی گئی ہین وہ تو بالکل واضح ہیں ۔ کسی تشریح کی محتاج نہیں ، البتہ آخری ہدایت وَلاَ تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي (اور کھڑے نہ ہوا کرو جب تک کہ مجھے دیکھ نہ لو) وضاحت طلب ہے ، غالباً کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ حجرہ شریف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد تشریف لانے سے پہلے یہ اندازہ کر کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے عنقریب باہر تشریف لانے والے ہیں ، لوگ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرما دی اور ارشاد فرمایا کہ میں جب تک مسجد مین نہ آ جاؤں اور تم مجھے دیکھ نہ لو اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو ۔ اس ممانعت کی یہ وجہ تو ظاہر ہے کہ پہلے سے کھڑے ہو جانا بے وجہ کی تکلیف اٹھانا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تشرف لانے میں دیر ہو جائے ، لیکن اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضح پسند طبیعت کے لیے یہ بات بھی تکلیف اور گرانی کا باعث ہوتی ہو گی کہ اللہ کے بندے صف باند کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں کھڑے ہوں ۔