عَنْ مَالِكِ بْنِ الحُوَيْرِثِ ، قَالَ : اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي ، فَقَالَ لَنَا : إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا ، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا. (رواه البخارى)
مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ایک چچا زاد بھائی بھی ساتھ تھے ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سفر کرو تو نماز کے لیے اذان اور اقامت کہو اور جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرے اور نماز پڑھائے ۔ (صحیح بخاری)
تشریح
صحیح بخاری ہی کی دوسری ایک روایت میں ہے کہ یہ مالک بن الحویرث اپنے قبیلہ کے بعض اور آدمیوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور دین سیکھنے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے مستفید ہونے کی نیت سے قریبا بیس دن قیام کیا تھا ، اپنی اس روایت میں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جس ارشاد کا ذکر کیا ہے وہ غالبا اس وقت کا ہے جب وطن واپس جانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رخصت فرمایا تھا ۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دو ہدایتیں فرمائی تھیں ایک یہ کہ سفر میں بھی نماز کے لیے اذان و اقامت کا اہتمام کیا جائے ، اور دوسری یہ کہ جو بڑا ہو وہ امامت کرے ، چونکہ دین اور علم دین کے لحاظ سے یہ اور ان کے ساتھی بظاہر برابر تھے ، کسی کو دوسرے کے مقابلے میں کوئی خاص فضیلت اور فوقیت حاصل نہیں تھی اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم میں عمر کے لحاظ سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے اور ایسی صورت میں یہی اصول اور مسئلہ ہے ۔