عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ فِي صُدُورِهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ، أَوْ تَتَكَلَّمْ» رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل کے برے خیالات اور وسوسوں کو معاف کر دیا ہے ، اُن پر کوئی مواخذہ نہ ہو گا ، جب تک اُن پر عمل نہ ہو اور زبان سے نہ کہا جائے ۔
تشریح
انسان کے دل میں بعض اوقات بڑے گندے خیالات اور خطرات آتے ہیں ، اور کبھی کبھی منکرانہ اور ملحدانہ سوالات و اعتراضات بھی دل و دماغ کو پریشان کرتے ہیں ، اس حدیث میں اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ خیالات اور وساوس جب تک کہ صرف خیالات اور وساوس ہیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں ہے ، ہاں ! جب یہی خیالات ، خطرات و وساوس کی حد سے بڑھ کر اُس شخص کا قول یا عمل بن جائیں ، تو پھر اُن پر مواخذہ اور محاسبہ ہو گا ۔