عَنْ أَنَسٍ قَالَ : صَلَّيْتُ اَنَا وَيَتِيْمٌ فِىْ بَيْتِنَا خَلْفَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا (رواه مسلم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے گھر میں اور میرے ساتھ (میرے بھائی) یتیم نے بھی (یعنی ہم دونوں صف بنا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے) اور ہماری والدہ ام سلیم ہم دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئیں ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر جماعت میں سرف ایک عورت بھی شریک ہو تو اس کو بھی مردوں اور بچوں سے الگ سب سے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے حتی کہ اگر بالفرض آگے صف میں اس کے سگے بیٹے ہی ہوں تب بھی وہ ان کے ساتھ کھڑی نہ ہو ، بلکہ الگ پیچھے کھڑی ہو (صحیح مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں یہ بھی تصریح ہے کہ ام سلیم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے پیچھے کھڑا کیا تھا) ۔
اوپر کی حدیث سے معلوم ہو چکا ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا کس قدر ناپسندیدہ ہے ، لیکن عورتوں کا مردوں بلکہ کمسن لڑکوں کے ساتھ بھی کھڑا ہونا چونکہ شریعت کی نگاہ می اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ اور خطرناک ہے ، اس لئے عورت اگر اکیلی ہو تو اس کو نہ صرف اجازت بلکہ حکم ہے کہ وہ اکیلی ہی صف میں پیچھے کھڑی ہو کر نماز پڑھے ۔