hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 582

5. کتاب الصلوٰۃ

معارف الحدیث

582
Maarif ul Hadith
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَالَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَتَعَالَى جَدُّكَ ، وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ. (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو پہلے اللہ کی تسبیح اور حمد اس طرح کرتے ۔ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ..... الخ اے اللہ ! تیری ذات پاک اور منزہ ہے اور میں تیر تقدیس بیان کرتا ہوں ، اور سارے کمالات اور خوبیاں تجھ میں ہیں ، میں تیری حمد کرتا ہوں اور تیرا نام پاک بڑا بابرکت ہے ، اور تیری شان بہت اعلیٰ ہے ، اور تو ہی معبود برحق ہے ، تیرے سوا کوئی عبادت اور بندگی کے لائق نہیں ہے ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد)

تشریح
حافظ مجد الدین ابن تیمیہؒ نے منتقیٰ میں سنن سعید بن منصور کے حوالے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق ، دار قطنی کے حوالہ سے حضرت عثمان اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے متعلق یہ نقل کرنے کے بعد کہ یہ حضرت تکبیر تحریمہ کے بعد نماز کا افتتاح سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ..... الخ سے کیا کرتے تھے ۔ لکھا ہے کہ ان سب حضرات کے اس طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کے بعد عموماً اور اکثر و بیشتر یہی سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ..... پڑھا کرتے تھے ۔ اس لیے احادیث میں وارد شدہ افتتاح نماز کی دوسری دعاؤں کے مقابلے میں یہی راجح و افضل ہے ، اگرچہ دوسری ثابت شدہ دعاؤں کا پڑھنا بھھی بالکل صحیح ہے ۔ مثلا وہ دعا جو حضرت ابو ہریرہؓ کی مندرجہ بالا روایت میں ابھی اوپر مذکور ہو چکی ہے ، یعنی اللَّهُمَّ بَاعِدْ .... اور اسی طرح وہ دعا جو حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت سے اگلی حدیث میں آ رہی ہے ۔