عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ ، فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ ، وَإِذَا سَجَدَ ، فَقَالَ فِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه)
عون بن عبداللہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جب کوئی شخص اپنے رکوع میں ۳ بار سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ کہے تو اس کا رکوع مکمل ہو گیا ، اور یہ اس کا ادنیٰ درجہ ہوا ، اسی طرح جب اپنے سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ۳ بار کہے تو اس کا سجدہ پورا ہو گیا ، اور یہ اس کا ادنیٰ درجہ ہوا ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد ، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رکوع میں سجدے میں اگر تسبیح ۳ دفعہ سے کم کہی گئی تو رکوع اور سجدہ تو ادا ہو جائے گا لیکن اس میں ایک گونہ نقصان رہے گا ، کامل ادائیگی کے لئے کم سے کم ۳ دفعہ تسبیح کہنا ضروری ہے ، اور اس سے زیادہ کہنا اور بہتر ہے ۔ ہاں امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ رکوع اور سجدہ اتنا زیادہ طویل نہ کرے جو مقتدیوں کے لئے زحمت اور گرانی کا باعث ہو ۔ حضرت سعید بن جبیر تابعی سے ابو داؤد اور نسائی نے وایت کیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے عمر بن عبدالعزیزؒ کے متعلق فرمایا کہ اس جوان کی نماز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ بہت ہی مشابہت ہے ۔ ابن جبیر فرماتے ہیںٰ کہ اس کے بعد ہم نے عمر بن عبدالعزیزؒ کے رکوع و سجعد کی تسبیحات کے بارے میں اندازہ کیا کہ وہ تقریبا دس دفعہ پڑھتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رکوع و سجود میں تقریبا دس دس دفعہ تسبیح کہتے تھے ، اس لئے بہتر یہ ہے کہ جو شخص نماز پڑھائے وہ کم سے کم تین دفعہ اور زیادہ سے زیادہ دس دفعہ تسبیح پڑھا کرے ۔
مندجہ بالا تینوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سجدے میں سبحان ربی العظیم اور سبحان ربی الاعلیٰ کہنے کی امت کو ہدایت و تلقین فرمائی اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی تھا ، لیکن دوسری بعض احادیث میں رکوع اور سجدہ ہی کی حالت میں تسبیح و تقدیس کے بعض دوسرے کلمات اور دعاؤں کا پڑھنا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔ جیسا کہ آگے درج ہونے والی حدیثوں سے معلوم ہو گا ۔