عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " يَتَأَوَّلُ القُرْآنَ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود ممیں بکثرت یہ کلمات کہا کرتے تھے سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي (اے اللہ ! ہمارے رب ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں ، اے اللہ ! میری مغفرت فرما) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ کلمات کہہ کے) قرآن مجید کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے آخری لفظ يَتَأَوَّلُ القُرْآن کا مطلب یہ ہے کہ سورہ اِذَا جَاءَ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو یہ حکم دیا گیا تھا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ (آپ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں) اس حکم کی تعمیل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ رکوع اور سجدے میں بھی اللہ کی حمد و تسبیح اور اس سے استغفار کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ سورہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ کے نزول کے بعد نماز کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح اور استغفار کے جامع کلمات بکثرت جاری رہتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی اقتدا اور پیروی ہم سب کو نصیب فرمائے ۔