hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 634

5. کتاب الصلوٰۃ

معارف الحدیث

634
Maarif ul Hadith
عَنْ عَبْدُاللهِ بْنِ عُمَرَ « أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ، فَدَعَا بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا » (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے اور داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے برابر والی انگلی (انگشت شہادت) کو اٹھا کر اس سے اشارہ فرماتے تھے اور اس وقت بایاں ہاتھ آپ کا بائیں گھٹنے پر ہی دراز ہوتا تھا (یعنی اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اشارہ نہیں فرماتے تھے) ۔ (صحیح مسلم)

تشریح
قعدہ ، تشہد اور سلام
نماز کا خاتمہ قعدہ اور سلام پر ہوتا ہے ، یعنی یہ دونوں اس کے آخری اجزاء ہیں ، ہاں اگر نماز تین یا چار رکعت والی ہو تو پہلی دو رکعت پڑھنے کے بعد ایک دفعہ درمیان میں بھی بیٹھا جاتا ہے اس کو قعدہ اولیٰ کہتے ہیں لیکن اس میں صرف تشہد پڑھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور تیسری یا چوتھی رکعت پڑھنے کے بعد دوبارہ بیٹھتے ہیں اور اس میں تشہد کے بعد درود شریف بھی پڑےھنے کے بعد سلام پر نماز ختم کر دی جاتی ہے ۔
ذیل کی حدیثوں سے معلوم ہو گا کہ قعدہ کا صحیح طریقہ کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قعدہ فرماتے تھے ، اور اس میں کیا پڑھنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے ، اور سلام پر کس طرح نماز ختم کرنی چاہئے ۔

تشریح ..... قعدہ میں کلمہ شہادت کے وقت انگشت شہادت کا اٹھانا اور اشارہ کرنا حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے علاوہ دوسرے صحابہ کرامؓ نے بھی روایت کیا ہے ، اور بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔ اور اس کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ جس وقت نمازی اشهد ان لا اله الا الله کہہ کر اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کی شہادت دے رہا ہو اس وقت اس کا دل بھی توحید کے تصور اور یقین سے لبریز ہو اور ہاتھ کی ایک انگلی اٹھا کر جسم سے بھی اس کی شہادت دی جا رہی ہو ، بلکہ حضرت عبادللہ بن عمرؓ کی اسی حدیث کی بعض روایات میں یہ اضافہ بھی ہے کہ انگشت شہادت کے اس اشارے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آنکھ سے بھی اشارہ فرماتے تھے ۔ واتبعها بصره اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہی نے اس اشارہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی نقل فرمایا ہے :
لَهِيَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ
انگشت شہادت کا یہ اشارہ شیطان کے لئے لوہے کی دھار دار چھری اور تلوار سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ (مشکوٰۃ بحوالہ مسند احمد)