عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارَ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : "رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنِ يَاسِرٍ يُصَلِّىْ بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ حَبِيْبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيْ بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوْبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ". (رواه الطبرانى)
حضرت عمار بن یاسر کے صاحبزادے محمد بن عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد ماجد عمار بن یاسرؒ کو دیکھا کہ وہ مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے اور بیان فرماتے تھے کہ میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو بندہ مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اگرچہ وہ کثرت میں سمندر کے کف کے برابر ہوں ۔ (معجم طبرانی)
تشریح
مغرب کے بعد دو رکعت تو سنت موکدہ ہیں جن کا ذکر حضرت ام حبیبہ ، حضرت عائشہ صدیقہؓ اور عبداللہ بن عمرؓ کی مندرجہ بالا حدیثوں میں آ چکا ہے ۔ ان کے علاوہ ۴ رکعت نفل اور پڑھی جائیں تو ۶ ہو جائیں گی ، اور بندہ گنوہوں کی مغفرت کی اس بشارت کا مستحق ہو جائے گا جو اس حدیث میں دی گئی ہے ۔