عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَّامٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِلْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَةِ. (رواه ابن ماجه ورواه مالك عن يحيى بن سعيد)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : تم میں سے کسی کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ اگر اس کو وسعت ہو تو وہ روزمرہ کے کام کاج کے وقت پہنے جانے والے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے دن کے لئے کپڑوں کا ایک خاص جوڑا بنا کے رکھ لے ۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
روزمرہ پہنے جانے والے کپڑوں کے ما سوا کوئی خاص جوڑا بنا کے رکھنے میں شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید یہ شان فقر و زہد کے خلاف اور ناپسندیدہ ہو ، اس حدیث میں دراصل اسی شبہ کو زائل کیا گیا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ جیسے دینی اجتماع کے لئے جو مسلمانوں کی ہفتہ وار عید ہے چونکہ حسب استطاعت اچھا کپڑا پہننا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اس لئے اس کے واسطے خاص جوڑا بنا کے رکھکنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ طبرانی نے معجم صغیر اور اوسط میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ :
“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خاص جوڑا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن پہنا کرتے تھے ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر تشریف لاتے تو ہم اس کو تہہ کر کے رکھ دیتے تھے اور پھر وہ اگلے جمعہ ہی کو نکلتا تھا ” ۔
لیکن محدثین کے اصول پر اس روایت کی سند میں کچھ ضعف ہے ۔