عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ ، قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى المُصَلَّى ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلاَةُ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ ، وَيُوصِيهِمْ ، وَيَأْمُرُهُمْ ، وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ ، أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ » (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن عید گاہ تشریف لے جاتے تھے ۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے ، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف رخ کر کے خطبہ کے لئے کھڑے ہوتے تھے اور لوگ بدستور صفوں میں بیٹھے رہتے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خطبہ اور وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور احکام دیتے تھے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کوئی لشکر کا دستہ تیار کر کے کسی طرف روانہ کرنے کا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عیدین کی نماز و خطبہ کے بعد) اس کو بھی روانہ فرماتے تھے یا کسی خاص چیز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حکم دینا ہوتا تو اسی موقع پر وہ بھی دیتے تھے ، پھر (ان سارے مہمات سے فارغ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ سے واپس ہوتے تھے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول یہی تھا کہ عیدین کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کی آبادی سے باہر اس میدان میں پڑھتے تھے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کے لئے منتخب فرما لیا تھا اور گویا (عیدگاہ) قرار دے دیا گھا اس وقت اس کے گرد کوئی چہار دیواری بھی نہیں تھی ، بس صحرائی میدان تھا ۔ لوگوں نے لکھا ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبا ایک ہزار قدم کے فاصلے پر تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز ایک مرتبہ بارش کی مجبوری سے مسجد شریف میں بھی پڑھی ہے ، جیسا کہ آگے ایک حدیث میں اس کا ذکر آئے گا ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عید کے دن نماز و خطبہ کے بعد عید گاہ ہی میں اعلاء کلمۃ الحق کے مجاہدین کے لشکر اور دستے بھی منظم کئے جاتے تھےاور وہیں سے ان کو روانہ اور رخصت کیا جاتا تھا ۔