عَنْ يَزِيْدِ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ ، قَالَ : خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ ، أَوْ أَضْحَى ، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ ، فَقَالَ : « إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ » (رواه ابوداؤد)
یزید بن خمیر رحبی باتعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن نماز عید پڑھنے کے لئے لوگوں کے ساتھ عیدگاہ تشریف لائے (امام کے آنے میں دیر ہوئی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کی اس تاخیر کو منکر بتایا (اور اس کی مذمت کی) اور فرمایا کہ اس وقت تو ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) نماز پڑھ کر فارغ ہو جایا کرتے تھے (راوی کہتے ہیں) اور یہ نوافل کا وقت تھا (نوافل سے مراود غالبا چاشت کے نوافل ہیں) ۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
عبداللہ بن بسر صحابی رضی اللہ عنہ نے شام میں سکونت اختیار کر لی تھی اور وہیں ۔ ۸۸ھ میں “ حمص ” میں ان کا انتقال ہوا ۔ غالبا وہیں کا یہ واقعہ ہے کہ نماز عید میں امام کی تاخیر پر آپ نے نکیر فرمائی اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگ نماز عید سویرا پڑھ کر فارغ ہو جایا کرتے تھے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز کے وقت کے بارے میں سب سے زیادہ واضح حدیث وہ ہے جو حافظ بن حجر نے “ تلخیص الحبیر ” میں احمد بن حسن البناء کی کتاب الاضاحی کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی جندب رضی اللہ عنہ کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے ۔
“ كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَالشَّمْسُ عَلَى قِيدَ رُمْحَيْنِ وَالْاَضْحَى عَلَى قِيدَ رُمْحٍ ” .
“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی نماز ہم لوگوں کو ایسے وقت پڑھاتے تھے کہ آفتاب بقدر دو نیزے کے بلند ہوتا تھا اور عید الاضحیٰ کی نماز ایسے وقت پڑھاتے تھے کہ آفتاب بقدر ایک نیزہ کے ہوتا تھا ” ۔
ہمارے زمانے میں بہت مقامات پر عیدین کی نماز بہت تاخیر سے پڑھی جاتی ہے ، یہ بلا شبہ خلاف سنت ہے ۔