hadith book logo

Maarif ul Hadith: Hadith 740

5. کتاب الصلوٰۃ

معارف الحدیث

740
Maarif ul Hadith
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : « سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ » قَالُوا : فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ : « بِكُلِّ شَعَرَةٍ ، حَسَنَةٌ » قَالُوا : " فَالصُّوفُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : « بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ ، حَسَنَةٌ » (رواه احمد وابن ماجه)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان قربانیوں کی کیا حقیقت اور کیا تاریخ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہارے (روحانی اور نسلی) مورث حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے (یعنی سب سے پہلے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا حکم دیا گیا اور وہ کیا کرتے تھے ، ان کی اس سنت اور قربانی کے اس عمل کی پیروی کا حکم مجھ کو اور میری امت کو بھی دیا گیا ہے) ان صحابہؓ نے عرض کیا ۔ پھر ہمارے لئے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان قربانیوں میں کیا اجر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قربانی کے جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ۔ انہوں نے عرض کیا : تو کیا اون کا بھی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہی حساب ہے ؟ (اس سوال کا مطلب تھا کہ بھیڑ ، دنبہ ، مینڈھا ، اونٹ جیسے جانور جن کی کھال پر گائے ، بیل یا بکری کی طرح کے بال نہیں ہوتے بلکہ اون ہوتا ہے ، اور یقینا ان میں سے ایک ایک جانور کی کھال پر لاکھوں یا کروڑوں بال ہوتے ہیں ، تو کیا ان اون والے جانوروں کی قربانی کا ثواب بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی کی شرح سے ملے گا ؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں اون والے جانور کی قربانی کا اجر بھی اسی شرح اور اسی حساب سے ملے گا کہ ہر بال کے عوض ایک نیکی “ ۔ (مسند احمد ، سنن ابن ماجہ)