عَنْ حَنَشٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ : مَا هَذَا؟ فَقَالَ : « إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ » (رواه ابوداؤد وروى الترمذى نحوه)
حنش بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ : یہ کیا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کی بجائے دو مینڈھوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں ؟) انہوں نے فرمایا کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں ، تو ایک قربانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کرتا ہوں ۔ (سنن ابی داؤد ، جامع ترمذی)
تشریح
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا تھا کہ مدینہ طیبہ میں قیام فرمانے کے بعد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پابندی کے ساتھ ہر سال قربانی فرماتے رہے اور حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ بعد کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرما گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کیا کریں ، چنانچہ اس وصیت کے مطابق حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے برابر قربانی کرتے تھے ۔