عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَاَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ : "أَرْبَعٌ الْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا ، وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا ، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي". (رواه مالك واحمد والترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجة والدارمى)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ قربانی میں کیسے جانوروں سے پرہیز کیا جائے (یعنی وہ کیا عیوب اور خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے جانور قربانی کے قابل نہیں رہتا) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور بتایا کہ چار (یعنی چار عیوب اور نقائص ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی عیب و نقص جانور میں پایا جائے تو قربانی کے قابل نہیں رہتا) ۔ ایک ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن بہت کھلا ہوا ہو (کہ اس کی وجہ سے اس کو چلنا بھی مشکل ہو) ۔ دوسرے وہ جس کی ایک آنکھ خراب ہو گئی ہو ، اور وہ خرابی بالکل نمایاں ہو ۔ تیسرے وہ جو بہت بیمار ہو ۔ چوتھے وہ جو ایسا کمزور اور لاغر ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا بھی نہ رہا ہو ۔ (موطا امام مالک ، مسند احمد ، جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد ، سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ ، سنن دارمی)