عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ : « الْحَدُوا لِي لَحْدًا ، وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ نَصْبًا ، كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ » (رواه مسلم)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عامر بیان کرتے ہیں کہ (والد ماجد) سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض وفات میں وصیت فرمائی تھی کہ میرے واسطے بغلی قبر بنائی جائے اور اس کو بند کرنے کے لئے کچی اینٹیں کھڑی کر دی جائیں ، جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا گیا تھا ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ قبر کا افضل ار بہتر طریقہ یہی ہے ک وہ بغلی بنائی جائے اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک بھی اسی طرح بنائی گئی تھی ۔ لیکن اگر زمین ایسی کچی ہو کہ بغلی قبر نہ بن سکتی ہو تو پھر دوسرے طریقہ کی قبر بنائی جائے جس کو شق کہتے ہیں ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حسب موقع دونوں طرح کی قبریں بنائی جاتی تھیں ، لیکن افضل لحد یعنی بغلی قبر ہی کا طریقہ ہے ۔