عَنْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ »
(رواه مسلم)
عبدالمطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صدقات لوگوں کے مال و دولت کا میل کچیل ہیں ، اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں ہیں ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں زکوٰۃ و صدقات کو میل کچیل اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ جس طرح میل کچیل نکل جانے کے بعد کپڑا ظاہری نظر میں صاف ہو جاتا ہے اسی طرح زکوٰۃ نکلنے کے بعد باقی مال عنداللہ اور باطنی نظر میں پاک ہو جاتا ہے ۔ اس میں اس طرف سے بھی اشارہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے مال زکوٰۃ کے استعمال سے پرہیز ہی کیا جائے ۔ اسی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے لیے اور قیامت تک کے واسطے اپنے اہل خاندان ان بنی ہاشم کے لیے زکوٰۃ کو ناجائز قرار دے دیا ۔