عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ ، قَالَ : « لَوْلاَ أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُهَا »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے ، راستے میں پڑی ہوئی اویک کھجور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھی تو فرمایا کہ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ شاید یہ زکوٰۃ کی ہو تو میں اس کو اٹھا کے کھا لیتا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا دراصل لوگوں کو یہ سبق دینے کے لیے تھا کہاگر اللہ کا رزق اور اس کی کوئی نعمت (اگرچہ کیسی ہی کم حیثیت اور کم قیمت ہو) کہیں گری پڑی نظر آئے تو اس کا احترام اور اس کی قدر کی جائے اور اس سے وہ کام لیا جائے جس کے لیے اللہ نے وہ بنائی ہے ۔ اسی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتا کے کہ : “ میں اس کو اس لیے نہیں کھا سکتا کہ شاید یہ زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے گر گئی ہو ۔ ” مشکوک اور مشتبہ چیزوں کے استعمال کرنے سے پرہیز اور احتیاط کا سبق بھی اہل تقویٰ کو دے دیا ہے ۔