عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ القِيَامَةِ ثَلاَثَةَ أَصْنَافٍ: صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ قَالَ: إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُمْ يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، کہ ”قیامت کے دن سب آدمی تین قسموں اور تین گروہوں میں اٹھائے جائیں گے ، ایک قسم پیدل چلنے والے ، اور ایک قسم سوار ، اور ایک قسم منہ کے بل چلنے والے “۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! یہ (تیسرے گروہ والے) منہ کے بل کس طرح چل سکیں گے؟ آپ نے فرمایا : ”جساللہ نے انہیں پاؤں کے بل چلایا ہے ، وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ ان کو منہ کے بل چلائے“ ۔ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اپنے منہ کے ذریعے ہیزمین کے ہر ٹیلے ٹھیرے ، اور ہر کانٹے سے بچیں گے ۔ (ترمذی)
تشریح
حدیث میں جن تین گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے شارحین حدیث نے ان کی تفصیل اس طرح کی ہے ، کہ پیدل چلنے والا گروہ عام اہلِ ایمان کا ہو گا ، اور دوسرا گروہ جو سواریوں پر ہو گا ، وہ خاص مقربین اور عبادِ صالحین کا گروہ ہو گا ، جن کا وہاں شروع ہی سے اعزاز و اکرام ہوگا ، اور سر کے بل ، اور منہ کے بل چلنے والے وہ بد نصیب ہوں گے ، جنہوں نے اس دنیوی زندگی میں انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اور ہدایت کے مطابق سیدھا چلنا قبول نہیں کیا ، اور مرتے دم تک وہ الٹے ہی چلتے رہے ۔ قیامت کے دن اس کی پہلی سزا انہیں یہ ملے گی ، کہ سیدھے پاؤں پر چلنے کے بجائے وہاں وہ الٹے منہ کے اور سر کے بل چلائے جائیں گے ، یہاں تک کہ جس طرح اس دنیا میں چلنے والے راستے کی اونچ نیچ سے ، اور جھاڑیوں اور کانٹوں سے اپنے پاؤں کے ذریعہ بچ کر نکلتے ہیں ، اسی طرح قیامت میں یہ سر کے بل چلنے والے وہاں کے راستے کی اونچ نیچ سے ، اور وہاں کے کانٹوں سے اپنے سروں اور چہروں ہی کے ذریعہ بچ کر نکلیں گے ، یعنی یہاں پر جو کام پاؤں سے کئے جاتے ہیں ، وہاں وہ سبکام خدا کے ان مجرموں کو سر سے اور منہ سے کرنے پڑیں گے ۔ اَللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ