عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ»، قَالُوا: وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ نَزَعَ» (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں ، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص بھی مرے گا ، اس کو (مرنے کے بعد اپنی زندگی پر) ندامت اور پشیمانی ضرور ہو گی “ ۔ عرض کیا گیا کہ : حضرت! اس کو ندامت کیوں ہو گی ؟ اور اس کا کیا سبب ہو گا ؟ آپ نے فرمایا ، اگر وہ مرنے والا نیکو کار ہو گا ، تو اس کو تو اس کی ندامت اور حسرت ہو گی ، کہ اس نے نیکوکاری میں اور زیادہ ترقی کیوں نہیں کی (اور جو حسنات وہ کما کے لایا ہے اس سے زیادہ کیوں نہیں کما کے لایا) اور اگر وہ بدکار ہو گا ، تو اس کو اس کی ندامت و حسرت ہو گی ، کہ وہ بدکاری سے باز کیوں نہیں رہا “۔ (ترمذی)