عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَن النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : يُغْفَرُ لِأُمَّتِهِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ" قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ "
(رواه احمد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : رمضان کی آخری رات میں آپ کی امت کے لیے مغفرت اور بخشش کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : یا رسول اللہ ! کیا وہ شب قدر ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : شب قدر تو نہیں ہوتی ، لیکن بات یہ ہے کہ عمل کرنے والا جب اپنا عمل پورا کر دے تو اس کو پوری اجرت مل جاتی ہے ۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کی آخری رات بھی خاص مغفرت کے فیصلہ کی رات ہے لیکن اس رات میں مغفرت اور بخشش کا فیصلہ انہی بندوں کے لیے ہو گا جو رمضان مبارک کے عملی مطالبات کسی دررجہ میں پورے کر کے اس کا استحقات پیدا کر لیں ، اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے ۔