Maarif ul Hadith
7. کتاب الصوم
معارف الحدیث
885
Maarif ul Hadithعَنِ أَبِىْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ » وفى رواية أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ...
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں .... (اور ایک روایت میں بجائے “ ابواب جنت ” کے “ ابوب رحمت ” کا لفظ ہے) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
توحید و رسالت کی شہادت کے بعد نماز ، زکوٰۃ ، روزہ اور حج اسلام کے عناصر اربعہ ہیں ۔
وہ حدیثیں اسی سلسلہ “ معارف الحدیث ” کے بالکل شروع میں ذکر کی جا چکی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچوں چیزوں کو اسلام کے ارکان اور بنیادی ستون بتایا ہے ۔ ان کے ارکان اور عناصر ہونے کا مطلب جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ اسلام اللہ کی فرمانبرداری والے جس طرز حیات کا نام ہے اس کی تخلیق و تعمیر اور نشوو نما میں ان پانچوں کو خاص الخاص دخل ہے .... اس لحاظ سے نماز اور زکوٰۃ کی جو تاثیری خصوصیات ہیں وہ اپنے موقع پر ذکر کی جا چکی ہیں .... روزے کی اس تاثیر و خصوصیت کا ذکر خود قرآن مجید میں صراحت اور وضاحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے .... سورہ بقرہ میں رمضان کے روزوں کی فرضیت کا اعلان فرمانے کے ساتھ ہی ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ ” لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ “ یعنی اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو روحانیت اور حیوانیت کا یا دوسرے الفاظ میں کہئے کہ ملکوتیت اور بہیمیت کا نسخہ جامعہ بنایا ہے ، اس کی طبیعت اور جبلت میں وہ سارے مادی اور سفلی تقاضے بھی ہیں جو دوسرے حیوانوں میں ہوتے ہیں ، اور اسی کے ساتھ اس کی فطرت میں روحانیت اور ملکوتیت کا وہ نورانی جوہر بھی ہے جو ملاء اعلیٰ کی لطیف مخلوق فرشتوں کی خاص دولت ہے ۔ انسان کی سعادت کا دار و مدار اس پر ہے کہ اس کا یہ روحانی اور ملکوتی عنصر بہیمی اور حیوانی عنصر پر غالب اور حاوی رہے اور اس کو حدود کا پابند رکھے ، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب کہ بہیمی پہلو روحانی اور ملکوتی پہلو کی فرمانبرداری اور اطاعت شعاری کا عادی ہو جائے اور اس کے مقابلے میں سرکشی نہ کر سکے .... روزہ کی ریاضت کا خاص مقصد و موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ کے احکام کی پابندی اور ایمانی و روحانی تقاضوں کی تابعداری و فرمانبرداری کا خوگر بنایا جائے اور چونکہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے ۔ قرآن مجید میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے :
“ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ”
(البقرۃ آیت ۱۸۳)
اے ایمان والوں ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے ، تا کہ تمہارے اندر تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا ہو ۔
بہر حال روزہ چونکہ انسان کی قوت بہیمی کو اس کی ملکوتی اور روحانی قوت کے تابع رکھنے اور اللہ کے احکام کے مقابلہ میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوت کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالنے کا خاص ذریعہ اور وسیلہ ہے ، اس لیے اگلی امتوں کو بھی اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ اگرچہ روزوں کی م دت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا .... اس آخری امت کے لیے جس کا دور دنیا کے آخری دن تک ہے سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کئے گئے ہیں اور روزے کا وقت طلوع سحر سے غروب آفتاب تک رکھا گیا ہے ، اور بلا شبہ یہ مدت اور یہ وقت مذکورہ بالا مقصد کے لیے اس دور کے واسطے مناسب ترین اور نہایت معتدل مدت اور وقت ہے ، اس سے میں ریاضت اور نفس کی تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہوتا ، اور اگر اس سے زیادہ رکھا جاتا ۔ مثلاً روزے میں دن کے ساتھ رات بھی شامل کر دی جاتی ، اور بس سحر کے وقت کھانے پینے کی اجازت ہوتی ، یا سال میں دو چار مہینے مسلسل روزے رکھنے کا حکم ہوتا ، تو انسانوں کی اکثریت کے ناقابل برداشت اور صحتوں کے لیے مضر ہوتا .... بہر حال طلوع سحر سے غروب آفتاب تک کا وقت اور سال میں ایک مہینے کی مدت اس دور کے عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے ریاضت و تربیت کے مقصد کے لیے بالکل مناسب اور معتدل ہے ۔
پھر اس کے لیے مہینہ وہ مقرر کیا گیا ہے جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا ، اور جس میں بے حساب برکتوں اور رحمتوں والی رات (لیلۃ القدر) ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہی مبارک مہینہ اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور مناسب ہو سکتا تھا .... پھر اس مہینے میں دن کے روزوں کے علاوہ رات میں بھی ایک خاص عبادت کا عمومی اور اجتماعی نظام قائم کیا گیا ہے جو تراویح کی شکل میں امت پر رائج ہے .... دن کے روزوں کے ساتھ رات کی تراویح کی برکات مل جانے کی برکات مل جانے سے اس مہینے کی نورانیت اور تاثیر میں وہ اضافہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے اپنے ادراک و احساس کے مطابق ہر وہ بندہ محسوس کرتا ہے جو ان باتوں سے کچھ بھی تعلق اور مناسبت رکھتا ہے ۔
ان مختصر تمہیدی اشارات کے بعد رمضان اور روزوں وغیرہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ذیل میں پڑھئے ۔
تشریح .....استاذ الاساتذہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے “ حجۃ اللہ البالغہ ” میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ .... اللہ کے صالح اور اطاعت شعار بندے رمضان میں چونکہ طاعات و حسنات میں مشغول و منہمک ہو جاتے ہیں وہ دنوں کو روزہ رکھ کے ذکر و تلاوت میں گزارتے ہیں اور راتوں کا بڑا حصہ تراویح و تہجد اور دعا و استغفار میں بسر کرتے ہیں اور ان کے انوار و برکات سے متاثر ہو کر عوام مومنین کے قلوب بھی رمضان میں عبادات اور نیکیوں کی طرف زیادہ راغب اور بہت سے گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ، تو اسلام اور ایمان کے حلقے میں سعادت اور تقوے کے اس عمومی رجحان اور نیکی اور عبادت کی اس عام فضاء کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے وہ تمام طبائع جن میں کچھ بھی صلاحیت ہوتی ہے ۔ اللہ کی مرضیات کی جانب مائل اور شر و خباثت سے متنفر ہو جاتی ہیں ، اور پھر اس ماہ مبارک میں تھوڑے سے عمل خیر کی قیمت بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے دوسرے دنوں کی بہ نسبت بہت زیادہ بڑھا دی جاتی ہے ، تو ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے ان پر بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور شیاطین ان کو گمراہ کرنے سے عاجز اور بے بس ہو جاتے ہیں ۔
اس تشریح کے مطابق ان تینوں باتوں (یعنی جنت و رحمت کے دروازے کھل جانے ، دوزخ کے دروازے بند ہو جانے اور شیاطین کے مقید اور بے بس کر دئیے جانے) کا تعلق صرف ان اہل ایمان سے ہے جو رمضان مبارک میں خیر و سعادت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے اور رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے عبادات و طاعات کو اپنا شغل بناتے ہیں .... باقی رہے وہ کفار اور خدا ناشناس اور وہ خدا فراموش اور غفلت شعار لوگ جو رمضان اور اس کے احکام و برکات سے کوئی سرو کار ہی نہیں رکھتے اور نہ اس کے آنے پر ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے ، ظاہر ہے کہ اس قسم کی بشارتوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں ، انہوں نے جب اپنے آپ کو خود ہی محروم کر لیا ہے اور بارہ مہینے شیطان کی پیروی پر وہ مطمئن ہیں تو پھر اللہ کے یہاں بھی ان کے لیے محرومی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
تشریح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
توحید و رسالت کی شہادت کے بعد نماز ، زکوٰۃ ، روزہ اور حج اسلام کے عناصر اربعہ ہیں ۔
وہ حدیثیں اسی سلسلہ “ معارف الحدیث ” کے بالکل شروع میں ذکر کی جا چکی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچوں چیزوں کو اسلام کے ارکان اور بنیادی ستون بتایا ہے ۔ ان کے ارکان اور عناصر ہونے کا مطلب جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ اسلام اللہ کی فرمانبرداری والے جس طرز حیات کا نام ہے اس کی تخلیق و تعمیر اور نشوو نما میں ان پانچوں کو خاص الخاص دخل ہے .... اس لحاظ سے نماز اور زکوٰۃ کی جو تاثیری خصوصیات ہیں وہ اپنے موقع پر ذکر کی جا چکی ہیں .... روزے کی اس تاثیر و خصوصیت کا ذکر خود قرآن مجید میں صراحت اور وضاحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے .... سورہ بقرہ میں رمضان کے روزوں کی فرضیت کا اعلان فرمانے کے ساتھ ہی ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ ” لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ “ یعنی اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو روحانیت اور حیوانیت کا یا دوسرے الفاظ میں کہئے کہ ملکوتیت اور بہیمیت کا نسخہ جامعہ بنایا ہے ، اس کی طبیعت اور جبلت میں وہ سارے مادی اور سفلی تقاضے بھی ہیں جو دوسرے حیوانوں میں ہوتے ہیں ، اور اسی کے ساتھ اس کی فطرت میں روحانیت اور ملکوتیت کا وہ نورانی جوہر بھی ہے جو ملاء اعلیٰ کی لطیف مخلوق فرشتوں کی خاص دولت ہے ۔ انسان کی سعادت کا دار و مدار اس پر ہے کہ اس کا یہ روحانی اور ملکوتی عنصر بہیمی اور حیوانی عنصر پر غالب اور حاوی رہے اور اس کو حدود کا پابند رکھے ، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب کہ بہیمی پہلو روحانی اور ملکوتی پہلو کی فرمانبرداری اور اطاعت شعاری کا عادی ہو جائے اور اس کے مقابلے میں سرکشی نہ کر سکے .... روزہ کی ریاضت کا خاص مقصد و موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ کے احکام کی پابندی اور ایمانی و روحانی تقاضوں کی تابعداری و فرمانبرداری کا خوگر بنایا جائے اور چونکہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے ۔ قرآن مجید میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے :
“ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ”
(البقرۃ آیت ۱۸۳)
اے ایمان والوں ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے ، تا کہ تمہارے اندر تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا ہو ۔
بہر حال روزہ چونکہ انسان کی قوت بہیمی کو اس کی ملکوتی اور روحانی قوت کے تابع رکھنے اور اللہ کے احکام کے مقابلہ میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوت کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالنے کا خاص ذریعہ اور وسیلہ ہے ، اس لیے اگلی امتوں کو بھی اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ اگرچہ روزوں کی م دت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا .... اس آخری امت کے لیے جس کا دور دنیا کے آخری دن تک ہے سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کئے گئے ہیں اور روزے کا وقت طلوع سحر سے غروب آفتاب تک رکھا گیا ہے ، اور بلا شبہ یہ مدت اور یہ وقت مذکورہ بالا مقصد کے لیے اس دور کے واسطے مناسب ترین اور نہایت معتدل مدت اور وقت ہے ، اس سے میں ریاضت اور نفس کی تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہوتا ، اور اگر اس سے زیادہ رکھا جاتا ۔ مثلاً روزے میں دن کے ساتھ رات بھی شامل کر دی جاتی ، اور بس سحر کے وقت کھانے پینے کی اجازت ہوتی ، یا سال میں دو چار مہینے مسلسل روزے رکھنے کا حکم ہوتا ، تو انسانوں کی اکثریت کے ناقابل برداشت اور صحتوں کے لیے مضر ہوتا .... بہر حال طلوع سحر سے غروب آفتاب تک کا وقت اور سال میں ایک مہینے کی مدت اس دور کے عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے ریاضت و تربیت کے مقصد کے لیے بالکل مناسب اور معتدل ہے ۔
پھر اس کے لیے مہینہ وہ مقرر کیا گیا ہے جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا ، اور جس میں بے حساب برکتوں اور رحمتوں والی رات (لیلۃ القدر) ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہی مبارک مہینہ اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور مناسب ہو سکتا تھا .... پھر اس مہینے میں دن کے روزوں کے علاوہ رات میں بھی ایک خاص عبادت کا عمومی اور اجتماعی نظام قائم کیا گیا ہے جو تراویح کی شکل میں امت پر رائج ہے .... دن کے روزوں کے ساتھ رات کی تراویح کی برکات مل جانے کی برکات مل جانے سے اس مہینے کی نورانیت اور تاثیر میں وہ اضافہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے اپنے ادراک و احساس کے مطابق ہر وہ بندہ محسوس کرتا ہے جو ان باتوں سے کچھ بھی تعلق اور مناسبت رکھتا ہے ۔
ان مختصر تمہیدی اشارات کے بعد رمضان اور روزوں وغیرہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ذیل میں پڑھئے ۔
تشریح .....استاذ الاساتذہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے “ حجۃ اللہ البالغہ ” میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ .... اللہ کے صالح اور اطاعت شعار بندے رمضان میں چونکہ طاعات و حسنات میں مشغول و منہمک ہو جاتے ہیں وہ دنوں کو روزہ رکھ کے ذکر و تلاوت میں گزارتے ہیں اور راتوں کا بڑا حصہ تراویح و تہجد اور دعا و استغفار میں بسر کرتے ہیں اور ان کے انوار و برکات سے متاثر ہو کر عوام مومنین کے قلوب بھی رمضان میں عبادات اور نیکیوں کی طرف زیادہ راغب اور بہت سے گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ، تو اسلام اور ایمان کے حلقے میں سعادت اور تقوے کے اس عمومی رجحان اور نیکی اور عبادت کی اس عام فضاء کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے وہ تمام طبائع جن میں کچھ بھی صلاحیت ہوتی ہے ۔ اللہ کی مرضیات کی جانب مائل اور شر و خباثت سے متنفر ہو جاتی ہیں ، اور پھر اس ماہ مبارک میں تھوڑے سے عمل خیر کی قیمت بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے دوسرے دنوں کی بہ نسبت بہت زیادہ بڑھا دی جاتی ہے ، تو ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے ان پر بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور شیاطین ان کو گمراہ کرنے سے عاجز اور بے بس ہو جاتے ہیں ۔
اس تشریح کے مطابق ان تینوں باتوں (یعنی جنت و رحمت کے دروازے کھل جانے ، دوزخ کے دروازے بند ہو جانے اور شیاطین کے مقید اور بے بس کر دئیے جانے) کا تعلق صرف ان اہل ایمان سے ہے جو رمضان مبارک میں خیر و سعادت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے اور رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے عبادات و طاعات کو اپنا شغل بناتے ہیں .... باقی رہے وہ کفار اور خدا ناشناس اور وہ خدا فراموش اور غفلت شعار لوگ جو رمضان اور اس کے احکام و برکات سے کوئی سرو کار ہی نہیں رکھتے اور نہ اس کے آنے پر ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے ، ظاہر ہے کہ اس قسم کی بشارتوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں ، انہوں نے جب اپنے آپ کو خود ہی محروم کر لیا ہے اور بارہ مہینے شیطان کی پیروی پر وہ مطمئن ہیں تو پھر اللہ کے یہاں بھی ان کے لیے محرومی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
886
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ ، صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ ، وَيُنَادِي مُنَادٍ : يَا بَاغِيَ الخَيْرِ أَقْبِلْ ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ ، وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ "
(رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات جکڑ دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے سارے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا اور جنت کے تمام دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، ان کا کوئی دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا ، اور اللہ کا منادی پکارتا ہے کہ اے خیر اور نیکی کے طالب قدم بڑھا کے آ ، اور اے بدی اور بدکرداری کے شائق رک ، آگے نہ آ ، اور اللہ کی طرف سے بہت سے (گناہ گار) بندوں کو دوزخ سے رہائی دی جاتی ہے (یعنی ان کی مغفرت کا فیصلہ فرما دیا جاتا ہے) اور یہ سب رمضان کی ہر رات میں ہوتا رہتا ہے ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث کے ابتدائی حصے کا مضمون تو وہی ہے جو اس سے پہلی حدیث کا تھا ، آخر میں عالم غیب کے منادی کی جس کی ندا کا ذکر ہے اگرچہ ہم اس کو اپنے کانوں سے نہیں سنتے اور نہیں سن سکتے ، لیکن اس کا یہ اثر اور یہ ظہور ہم اس دنیا میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ رمضان میں عموماً اہل ایمان کا رجحان اور میلان خیر و سعادت والے اعمال کی طرف بڑھ جاتا ہے ، یہاں تک کہ بہت سے غیر محتاط اور آزاد منش عامی مسلمان بھی رمضان میں اپنی روش کو کچھ بدل لیتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک ایک یہ ملاء اعلیٰ کی اس ندا اور پکار ہی کا ظہور اور اثر ہے ۔
تشریح
اس حدیث کے ابتدائی حصے کا مضمون تو وہی ہے جو اس سے پہلی حدیث کا تھا ، آخر میں عالم غیب کے منادی کی جس کی ندا کا ذکر ہے اگرچہ ہم اس کو اپنے کانوں سے نہیں سنتے اور نہیں سن سکتے ، لیکن اس کا یہ اثر اور یہ ظہور ہم اس دنیا میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ رمضان میں عموماً اہل ایمان کا رجحان اور میلان خیر و سعادت والے اعمال کی طرف بڑھ جاتا ہے ، یہاں تک کہ بہت سے غیر محتاط اور آزاد منش عامی مسلمان بھی رمضان میں اپنی روش کو کچھ بدل لیتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک ایک یہ ملاء اعلیٰ کی اس ندا اور پکار ہی کا ظہور اور اثر ہے ۔
887
Maarif ul Hadithعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالخَيْرِ ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ ، يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ القُرْآنَ ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ أَجْوَدَ بِالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ المُرْسَلَةِ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کی بخشش اور خلق اللہ کی نفع رسانی میں اللہ تعالیٰ کے سب بندوں سے فائق تھے اور رمضان مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کریمانہ صفت اور زیادہ ترقی کر جاتی تھی ۔ رمضان کی ہر رات میں جبرائیل امین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قرآن مجید سناتے تھے ۔ تو جب روزانہ جبرئیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کریمانہ نفع رسانی اور خیر کی بخشش میں اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہواؤں سے بھی زیادہ تیزی آ جاتی اور زور پیدا ہو جاتا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
گویا رمضان مبارک کا مہینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبع مبارک کے لیے بہار و نشاط اور نشر خیر کی صفت میں ترقی کا مہینہ تھا ، اور اس میں اس چیز کو بھی دخل تھا کہ اس مہینے کی ہر رات میں اللہ کے خاص پیغامبر جبرئیل امین آتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قرآن مجید سناتے تھے ۔
تشریح
گویا رمضان مبارک کا مہینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبع مبارک کے لیے بہار و نشاط اور نشر خیر کی صفت میں ترقی کا مہینہ تھا ، اور اس میں اس چیز کو بھی دخل تھا کہ اس مہینے کی ہر رات میں اللہ کے خاص پیغامبر جبرئیل امین آتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قرآن مجید سناتے تھے ۔
888
Maarif ul Hadithعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ : " يا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ ، شَهْرٌ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، جَعَلَ اللهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً ، وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا ، مَنْ تَقَرَّبَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ ، وَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيهِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ ، وَشَهْرٌ يُزَادُ فِي رِزْقِ الْمُؤْمِنِ ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ ، وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقَصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَيْسَ كُلُّنَا يَجِدُ مَا يُفْطِرُ الصَّائِمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُعْطِي اللهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ أَوْ تَمْرَةٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ ، وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللهُ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ فِيهِ غَفَرَ اللهُ لَهُ وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ "
(رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک خطبہ دیا .... اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو ! تم پر ایک عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ افگن ہو رہا ہے ، اس مبارک مہینہ کی ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اس مہینے کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں میں بارگاہ خداوندی میں کھڑا ہونے (یعنی نماز تراویح پڑھنے) کو نفل عبادت مقرر کیا ہے (جس کا بہت بڑا ثواب رکھا ہے) جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت (یعنی سنت یا نفل) ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانہ کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا ۔ اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستر فرضوں کے برابر ہے ۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔ یہ ہمددی اور غمخواری کا مہینہ ہے ، اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے) افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہو گا اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا ۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے .... آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان نیسر نہیں ہوتا (تو کیا غرباء اس عظیم ثواب سے محروم رہیں گے ؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یا صرف پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرا دے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے آگے ارشاد فرمایا کہ) اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (یعنی کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی تا آنکہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا .... (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش دوزخ سے آزادی ہے (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اور اور جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے دے گا ۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اس خطبہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب و مدعا واضح ہے ، تاہم اس کے چند اجزاء کی مزید وضاحت کے لیے کچھ عرض کیا جاتا ہے :
۱۔ اس خطبہ میں ماہ رمضان کی سب سے بڑی اور پہلی عظمت کی فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس میں ایک ایسی رات ہوتی ہے جو ہزار دنوں اور راتوں سے نہیں بلکہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ یہ بات جیسا کہ معلوم ہے قرآن مجید سورۃ القدر میں بھی فرمائی گئی ہے بلکہ اس پوری سورۃ میں اس مبارک رات کی عطمت اور فضیلت ہی کا بیان ہے ، اور اس رات کی عظمت و اہمیت سمجھنے کے لیے بس یہی کافی ہے ۔
ایک ہزار مہینوں میں تقریباً تیس ہزار راتیں ہوتی ہیں ، اس لیلۃ القدر کے ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا مطلب یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے اور اس کے قرب و رضا کے طالب بندے اس ایک رات میں قرب الہی کی اتنی مسافت طے کر سکتے ہیں جو دوسری ہزاروں راتوں میں طے نہیں ہو سکتی ۔ ہم جس طرح اپنی اس مادی دنیا میں دیکھتے ہیں کہ تیز رفتار ہوئی جہاز یا راکٹ کے ذریعہ اب ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ میں اس سے زیادہ مسافت طے کی جا سکتی ہے جتنی پرانے زمانے میں سینکڑوں برس میں طے ہوا کرتی تھی ۔ اسی طرح حصول رضائے خداوندی اور قرب الہی کے سفر کی رفتار لیلۃ القدر میں اتنی تیز کر دی جاتی ہے کہ جو بات صادق طالبوں کو سینکڑوں مہینوں میں حاصل نہیں ہو سکتی ، وہ اس مبارک رات میں حاصل ہو جاتی ہے ۔
اسی طرح اور اسی کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب بھی سمجھنا چاہیے کہ اس مبارک مہینہ میں جو شخص کسی قسم کی نفلی نیکی کرے گا اس کا ثواب دوسرے زمانہ کی فرض نیکی کے برابر ملے گا اور فرض نیکی کرنے والے کو دوسرے زمانہ کے ستر فرض ادا کرنے کا ثواب ملے گا .... گویا “ لیلۃ القدر ” کی خصوصیت تو رمضان مبارک کی ایک مخصوص رات کی خصوصیت ہے لیکن نیکی کا ثواب ستر گنا ملنا یہ رمضان مبارک کے ہر دن اور ہر رات کی برکت اور فضیلت ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقیقتوں کا یقین نصیب فرمائے ، اور ان سے مستفید اور متمتع ہونے کی توفیق دے ۔
۲۔ اس خطبہ میں رمضان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے ۔ دینی زبان میں صبر کے اصل معنی ہیں اللہ کی رضا کے لیے اپنے نفس کی خواہشوں کو دبانا اور تلخیوں اور ناگواریوں کو جھیلنا ۔ ظاہر ہے کہ روزہ کا اول و آخر بالکل یہی ہے ، اسی طرح روزہ رکھ کر ہر روزہ دار کو تجربہ ہوتا ہے کہ فاقہ کیسی تکلیف کی چیز ہے ، اس سے اس کے اندر ان غرباء اور مساکین کی ہمدردی اور غمخواری کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے جو بے چارے ناداری کی وجہ سے فاقوں پہ فاقے کرتے ہیں ۔ اس لیے رمضان کا مہینہ بلاشبہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے ۔
۳۔ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ : “ اس بابرکت مہینہ میں اہل ایمان کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ ” اس کا تجربہ تو بلا استثناء ہر صاحب ایمان روزہ دار کو ہوتا ہے کہ رمضان مبارک میں جتنا اچھا اور جتنی فراغت سے کھانے پینے کو ملتا ہے باقی گیارہ مہینوں میں اتنا نصیب نہیں ہوتا ۔ خواہ اس عالم اسباب میں وہ کسی بھی راستے سے آئے ، سب اللہ ہی کے حکم سے اور اسی کے فیصلے سے آتا ہے ۔
۴۔ خطبہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ : “ رمضان کا ابتدائی حصہ رحمت ہے ، درمیانہ حصہ مغفرت ہے ، اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا وقت ہے ” ۔
اس عاجز کے نزدیک اس کی راجح اور دل کو زیادہ لگنے والی توجیہ اور تشریح یہ ہے کہ رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے والے بندے تین طرح کے ہو سکتے ہیں ، ایک وہ اصحاب صلاح و تقویٰ جو ہمیشہ گناہوں سے بچنے کا اہتمام رکھتے ہیں اور جب کبھی ان سے کوئی خطا اور لغزش ہو جاتی ہے تو اسی وقت توبہ و استغفار سے اس کی صفائی تلافی کر لیتے ہیں ، تو ان بندوں پر تو شروع مہینہ ہی سے بلکہ اس کی پہلی ہی رات سے اللہ کی رحمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے ۔ دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو ایسے متقی اور پرہیز گار تو نہیں ہیں لیکن اس لحاظ سے بالکل گئے گزرے بھی نہیں ہیں ، تو ایسے لوگ جب رمضان کے ابتدائی حصے میں روزوں اور دوسرے اعمال خیر اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے حال کو بہتر اور اپنے کو رحمت و مغفرت کے لائق بنا لیتے ہیں ، تو درمیانی حصے میں ان کی بھی مغفرت اور معافی کا فیصلہ فرما دیا جاتا ہے .... اور تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو اپنے نفسوں پر بہت ظلم کر چکے ہیں اور ان کا حال بڑا ابتر رہا ہے اور اپنی بداعمالیوں سے وہ گویا دوزخ کے پورے پورے مستحق ہو چکے ہیں ، وہ بھی جب رمضان کے پہلے اور درمیانی حصے میں عام مسلمانوں کے ساتھ روزے رکھ کے اور توبہ و استغفار کر کے اپنی سیاہ کاریوں کی کچھ صفائی اور تلافی کر لیتے ہیں تو اخیر عشرہ میں (جو دریائے رحمت کے جوش کا عشرہ ہے) اللہ تعالیٰ دوزخ سے ان کی بھی نجات اور رہائی کا فیصلہ فرما دیتا ہے .... اس کی تشریح کی بناء پر رمضان مبارک کے ابتدائی حصے کی رحمت ، درمیانی حصے کی مغفرت اور آخری حصے میں جہنم سے آزادی کا تعلق بالترتیب امت مسلمہ کے ان مذکورہ بالا تین طبقوں سے ہو گا ۔ واللہ اعلم ۔
تشریح
اس خطبہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب و مدعا واضح ہے ، تاہم اس کے چند اجزاء کی مزید وضاحت کے لیے کچھ عرض کیا جاتا ہے :
۱۔ اس خطبہ میں ماہ رمضان کی سب سے بڑی اور پہلی عظمت کی فضیلت یہ بیان کی گئی ہے کہ اس میں ایک ایسی رات ہوتی ہے جو ہزار دنوں اور راتوں سے نہیں بلکہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ یہ بات جیسا کہ معلوم ہے قرآن مجید سورۃ القدر میں بھی فرمائی گئی ہے بلکہ اس پوری سورۃ میں اس مبارک رات کی عطمت اور فضیلت ہی کا بیان ہے ، اور اس رات کی عظمت و اہمیت سمجھنے کے لیے بس یہی کافی ہے ۔
ایک ہزار مہینوں میں تقریباً تیس ہزار راتیں ہوتی ہیں ، اس لیلۃ القدر کے ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا مطلب یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے اور اس کے قرب و رضا کے طالب بندے اس ایک رات میں قرب الہی کی اتنی مسافت طے کر سکتے ہیں جو دوسری ہزاروں راتوں میں طے نہیں ہو سکتی ۔ ہم جس طرح اپنی اس مادی دنیا میں دیکھتے ہیں کہ تیز رفتار ہوئی جہاز یا راکٹ کے ذریعہ اب ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ میں اس سے زیادہ مسافت طے کی جا سکتی ہے جتنی پرانے زمانے میں سینکڑوں برس میں طے ہوا کرتی تھی ۔ اسی طرح حصول رضائے خداوندی اور قرب الہی کے سفر کی رفتار لیلۃ القدر میں اتنی تیز کر دی جاتی ہے کہ جو بات صادق طالبوں کو سینکڑوں مہینوں میں حاصل نہیں ہو سکتی ، وہ اس مبارک رات میں حاصل ہو جاتی ہے ۔
اسی طرح اور اسی کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب بھی سمجھنا چاہیے کہ اس مبارک مہینہ میں جو شخص کسی قسم کی نفلی نیکی کرے گا اس کا ثواب دوسرے زمانہ کی فرض نیکی کے برابر ملے گا اور فرض نیکی کرنے والے کو دوسرے زمانہ کے ستر فرض ادا کرنے کا ثواب ملے گا .... گویا “ لیلۃ القدر ” کی خصوصیت تو رمضان مبارک کی ایک مخصوص رات کی خصوصیت ہے لیکن نیکی کا ثواب ستر گنا ملنا یہ رمضان مبارک کے ہر دن اور ہر رات کی برکت اور فضیلت ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقیقتوں کا یقین نصیب فرمائے ، اور ان سے مستفید اور متمتع ہونے کی توفیق دے ۔
۲۔ اس خطبہ میں رمضان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے ۔ دینی زبان میں صبر کے اصل معنی ہیں اللہ کی رضا کے لیے اپنے نفس کی خواہشوں کو دبانا اور تلخیوں اور ناگواریوں کو جھیلنا ۔ ظاہر ہے کہ روزہ کا اول و آخر بالکل یہی ہے ، اسی طرح روزہ رکھ کر ہر روزہ دار کو تجربہ ہوتا ہے کہ فاقہ کیسی تکلیف کی چیز ہے ، اس سے اس کے اندر ان غرباء اور مساکین کی ہمدردی اور غمخواری کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے جو بے چارے ناداری کی وجہ سے فاقوں پہ فاقے کرتے ہیں ۔ اس لیے رمضان کا مہینہ بلاشبہ صبر اور غمخواری کا مہینہ ہے ۔
۳۔ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ : “ اس بابرکت مہینہ میں اہل ایمان کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ ” اس کا تجربہ تو بلا استثناء ہر صاحب ایمان روزہ دار کو ہوتا ہے کہ رمضان مبارک میں جتنا اچھا اور جتنی فراغت سے کھانے پینے کو ملتا ہے باقی گیارہ مہینوں میں اتنا نصیب نہیں ہوتا ۔ خواہ اس عالم اسباب میں وہ کسی بھی راستے سے آئے ، سب اللہ ہی کے حکم سے اور اسی کے فیصلے سے آتا ہے ۔
۴۔ خطبہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ : “ رمضان کا ابتدائی حصہ رحمت ہے ، درمیانہ حصہ مغفرت ہے ، اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا وقت ہے ” ۔
اس عاجز کے نزدیک اس کی راجح اور دل کو زیادہ لگنے والی توجیہ اور تشریح یہ ہے کہ رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے والے بندے تین طرح کے ہو سکتے ہیں ، ایک وہ اصحاب صلاح و تقویٰ جو ہمیشہ گناہوں سے بچنے کا اہتمام رکھتے ہیں اور جب کبھی ان سے کوئی خطا اور لغزش ہو جاتی ہے تو اسی وقت توبہ و استغفار سے اس کی صفائی تلافی کر لیتے ہیں ، تو ان بندوں پر تو شروع مہینہ ہی سے بلکہ اس کی پہلی ہی رات سے اللہ کی رحمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے ۔ دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو ایسے متقی اور پرہیز گار تو نہیں ہیں لیکن اس لحاظ سے بالکل گئے گزرے بھی نہیں ہیں ، تو ایسے لوگ جب رمضان کے ابتدائی حصے میں روزوں اور دوسرے اعمال خیر اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے حال کو بہتر اور اپنے کو رحمت و مغفرت کے لائق بنا لیتے ہیں ، تو درمیانی حصے میں ان کی بھی مغفرت اور معافی کا فیصلہ فرما دیا جاتا ہے .... اور تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو اپنے نفسوں پر بہت ظلم کر چکے ہیں اور ان کا حال بڑا ابتر رہا ہے اور اپنی بداعمالیوں سے وہ گویا دوزخ کے پورے پورے مستحق ہو چکے ہیں ، وہ بھی جب رمضان کے پہلے اور درمیانی حصے میں عام مسلمانوں کے ساتھ روزے رکھ کے اور توبہ و استغفار کر کے اپنی سیاہ کاریوں کی کچھ صفائی اور تلافی کر لیتے ہیں تو اخیر عشرہ میں (جو دریائے رحمت کے جوش کا عشرہ ہے) اللہ تعالیٰ دوزخ سے ان کی بھی نجات اور رہائی کا فیصلہ فرما دیتا ہے .... اس کی تشریح کی بناء پر رمضان مبارک کے ابتدائی حصے کی رحمت ، درمیانی حصے کی مغفرت اور آخری حصے میں جہنم سے آزادی کا تعلق بالترتیب امت مسلمہ کے ان مذکورہ بالا تین طبقوں سے ہو گا ۔ واللہ اعلم ۔
889
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ ، بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، قَالَ اللهُ تَعَالَى فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ ، وَلَا يَصْخَبْ ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ"
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (روزہ کی فضیلت اور قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب دن گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے ۔ (یعنی اس امت مرحومہ کے اعمال خیر کے متعلق عام قانون الہی یہی ہے ک ایک نیکی کا اجر اگلی امتوں کے لحاظ سے کم از کم دس گنا ضرور عطا ہو گا اور بعض اوقات عمل کرنے کے خاص حالات اور اخلاص و خشیت وغیرہ کیفیات کی وجہ سے اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہو گا ، یہاں تک کہ بعض مقبول بندوں کو ان کے اعمالِ حسنہ کا اجر سات سو گنا عطا فرمایا جائے گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس عام قانون رحمت کا ذکر فرمایا) مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : روزہ اس عام قانون سے مستثنیٰ اور بالا تر ہے وہ بندہ کی طرف سے خاص میرے لیے ایک تحفہ ہے ، اور میں ہی (جس طرح چاہوں گا) اس کا اجر و ثواب دوں گا ۔ میرا بندہ میری رضا کے واسطے اپنی خواہش نفس اور اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے (پس میں خود ہی اپنی مرضی کے مطابق اس کی اس قربانی اور نفس کشی کا صلہ دوں گا) روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں : ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے مالک و مولیٰ کی بارگاہ میں حضور ی اور شرف باریابی کے وقت اور قسم ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے (یعنی انسانوں کے لیے مشک کی خوشبو جتنی اچھی اور جتنیپیاری ہے اللہ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو اس سے بھی اچھی ہے) اور روزہ (دنیا میں شیطان و نفس کے حملوں سے بچاؤ کے لیے اور آخرت میں آتش دوزخ سے حفاظت کے لیے ڈھال ہے ۔ اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو چاہئے کہ وہ بے ہودہ اور فحش باتیں بکے اور شور و شغب نہ کرے ، اور اگر کوئی دوسرا اس سے گالی گلوچ یا جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے اکثر وضاحت طلب اجزاء کی تشریح ترجمہ کے ضمن میں کر دی گئی ہے ۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ : “ جب کسی کا روزہ ہو تو وہ فحش اور گندی باتیں اور شور و شغب بالکل نہ کرے ، اور اگر بالفرض کوئی دوسرا اس سے الجھے اور گالیاں بکے جب بھی یہ کوئی سخت بات نہ کہے ، بلکہ صرف اتنا کہہ دے کہ : بھائی میرا روزہ ہے ۔ اس آخری ہدایت میں اشارہ ہے کہ اس حدیث میں روزہ کی جو خاص فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں یہ انہی روزوں کی فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں یہ انہی روزوں کی ہیں جن میں شہوت نفس اور کھانے پینے کے علاوہ گناہوں سے حتیٰ کہ بری اور نا پسند باتوں سے بھی پرہیز کیا گیا ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں (جو عنقریب درج ہو گی) فرمایا گیا ہے ک جو شخص روزہ رکھے لیکن برے کاموں اور غلط باتوں سے پرہیز نہ کرے تو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی اللہ کو کوئی احتیاج نہیں ہے ۔
تشریح
حدیث کے اکثر وضاحت طلب اجزاء کی تشریح ترجمہ کے ضمن میں کر دی گئی ہے ۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ : “ جب کسی کا روزہ ہو تو وہ فحش اور گندی باتیں اور شور و شغب بالکل نہ کرے ، اور اگر بالفرض کوئی دوسرا اس سے الجھے اور گالیاں بکے جب بھی یہ کوئی سخت بات نہ کہے ، بلکہ صرف اتنا کہہ دے کہ : بھائی میرا روزہ ہے ۔ اس آخری ہدایت میں اشارہ ہے کہ اس حدیث میں روزہ کی جو خاص فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں یہ انہی روزوں کی فضیلتیں اور برکتیں بیان کی گئی ہیں یہ انہی روزوں کی ہیں جن میں شہوت نفس اور کھانے پینے کے علاوہ گناہوں سے حتیٰ کہ بری اور نا پسند باتوں سے بھی پرہیز کیا گیا ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں (جو عنقریب درج ہو گی) فرمایا گیا ہے ک جو شخص روزہ رکھے لیکن برے کاموں اور غلط باتوں سے پرہیز نہ کرے تو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی اللہ کو کوئی احتیاج نہیں ہے ۔
890
Maarif ul Hadithعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : " إِنَّ فِي الجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، يُقَالُ : أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَقُومُونَ لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ "
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے جس کو “ باب الریان ” کہا جاتا ہے ۔ اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزہ داروں کا داخلہ ہو گا ، ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہو سکے گا ۔ اس دن پکارا جائے گا کہ کدھر ہیں وہ بندے جو اللہ کے لیے روزے رکھا کرتے گھے اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے ؟ وہ اس پکار پر چل پڑیں گے ۔ اس کے سوا کسی اور کا اس دروازے سے داخلہ نہیں ہو سکے گا ۔ جب وہ روزہ دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا ، پھر کسی کا اس سے دخلہ نہیں ہو سکے گا ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
روزہ میں جس تکلیف کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے اور جو روزہ دار کی سب سے بڑی قربانی ہے وہ اس کا پیاسا رہنا ہے ، اس لیے اس کو جو صلہ اور انعام دیا جاے گا اس میں سب سے زیادہ نمایاں اور غالب پہلو سیرابی کا ہونا چاہئے ۔ اسی مناسبت سے جنت میں روزہ داروں کے داخلہ کے لیے جو مخصوص دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کی خاطر صفت سیرابی و شادابی ہے ۔ ریان کے لغوی معنی ہیں “ پورا پورا سیراب ” یہ بھرپور سیرابی تو اس دروازہ کی صفت ہے جس سے روزہ داروں کا داخلہ ہو گا ، آگے جنت میں پہنچ کر جو کچھ اللہ تعالیٰ کے انعامات ان پر ہوں گے ان کا علم تو بس اس اللہ تعالیٰ کو ہی ہے جس کا ارشاد ہے کہ : الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ .... “ بندہ کا روزہ بس میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا صلہ دوں گا ” ۔
تشریح
روزہ میں جس تکلیف کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے اور جو روزہ دار کی سب سے بڑی قربانی ہے وہ اس کا پیاسا رہنا ہے ، اس لیے اس کو جو صلہ اور انعام دیا جاے گا اس میں سب سے زیادہ نمایاں اور غالب پہلو سیرابی کا ہونا چاہئے ۔ اسی مناسبت سے جنت میں روزہ داروں کے داخلہ کے لیے جو مخصوص دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کی خاطر صفت سیرابی و شادابی ہے ۔ ریان کے لغوی معنی ہیں “ پورا پورا سیراب ” یہ بھرپور سیرابی تو اس دروازہ کی صفت ہے جس سے روزہ داروں کا داخلہ ہو گا ، آگے جنت میں پہنچ کر جو کچھ اللہ تعالیٰ کے انعامات ان پر ہوں گے ان کا علم تو بس اس اللہ تعالیٰ کو ہی ہے جس کا ارشاد ہے کہ : الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ .... “ بندہ کا روزہ بس میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کا صلہ دوں گا ” ۔
891
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِىْ أُمَامَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ ، قَالَ : « عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ »
(رواه النسائى)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ : مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے ، جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ رکھا کرو ، اس کی مثل کوئی بھی عمل نہیں ہے ۔ (سنن نسائی)
تشریح
نماز ، روزہ ، صدقہ ، حج اور خلق اللہ کی خدمت وغیرہ اعمال صالحہ میں یہ بات مشترک ہونے کے باوجود کہ یہ سب تقرب الی اللہ کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں ان کی الگ الگ کچھ خاص تاثیرات اور خصوصیات بھی ہیں جن میں یہ ایک دوسرے سے ممتاز اور منفرد ہیں ۔ گویا ؎
“ ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است ”
ان انفرادی اور امتیازی خصوصیات کے لحاظ سے ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ : “ اس جکے مثل کوئی عمل نہیں ہے ” مثلاً نفس کو مغلوب اور مقہور کرنے اور اس کی خواہشوں کو دبانے کے لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اس صفت میں کوئی دوسرا عمل روزہ کے مثل نہیں ہے ۔ پس حضرت ابو امامہؓ کی اس حدیث میں روزہ کے بارے میں جو فرمایا گیا ہے کہ : “ اس کے مثل کوئی عمل نہیں ہے ” اس کی حقیقت یہی سمجھنی چاہئے ۔ نیز ملحوظ رہنا چاہئے کہ ابو امامہؓ کے خاص حالات میں ان کے لیے زیادہ نفع مند روزہ ہی تھا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسی کی ہدایت فرمائی .... اور اسی حدیث کی بعض روایات میں ہے کہ ابو امامہ نے یہ جواب پانے کے بع دوبارہ اور سہ بارہ بھی عرض کیا کہ : “ مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے جس کو میں کیا کروں ” تو دونوں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ہی کی ہدایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ : بس روزہ رکھا کرو ، اس کے مثل کوئی دوسرا عمل نہیں ہے ۔ یعنی تمہارے خاص حالات میں تم کو اسی سے زیادہ نفع ہو گا ۔ واللہ اعلم ۔
تشریح
نماز ، روزہ ، صدقہ ، حج اور خلق اللہ کی خدمت وغیرہ اعمال صالحہ میں یہ بات مشترک ہونے کے باوجود کہ یہ سب تقرب الی اللہ کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں ان کی الگ الگ کچھ خاص تاثیرات اور خصوصیات بھی ہیں جن میں یہ ایک دوسرے سے ممتاز اور منفرد ہیں ۔ گویا ؎
“ ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است ”
ان انفرادی اور امتیازی خصوصیات کے لحاظ سے ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ : “ اس جکے مثل کوئی عمل نہیں ہے ” مثلاً نفس کو مغلوب اور مقہور کرنے اور اس کی خواہشوں کو دبانے کے لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اس صفت میں کوئی دوسرا عمل روزہ کے مثل نہیں ہے ۔ پس حضرت ابو امامہؓ کی اس حدیث میں روزہ کے بارے میں جو فرمایا گیا ہے کہ : “ اس کے مثل کوئی عمل نہیں ہے ” اس کی حقیقت یہی سمجھنی چاہئے ۔ نیز ملحوظ رہنا چاہئے کہ ابو امامہؓ کے خاص حالات میں ان کے لیے زیادہ نفع مند روزہ ہی تھا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسی کی ہدایت فرمائی .... اور اسی حدیث کی بعض روایات میں ہے کہ ابو امامہ نے یہ جواب پانے کے بع دوبارہ اور سہ بارہ بھی عرض کیا کہ : “ مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے جس کو میں کیا کروں ” تو دونوں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ہی کی ہدایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ : بس روزہ رکھا کرو ، اس کے مثل کوئی دوسرا عمل نہیں ہے ۔ یعنی تمہارے خاص حالات میں تم کو اسی سے زیادہ نفع ہو گا ۔ واللہ اعلم ۔
892
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جو لوگ رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھیں گے ان کے سب گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور ایسے ہی جو لوگ ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں نوافل (تراویح و تہجد) پڑھیں گے ان کے بھی سب پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ، اور اسی طرح جو لوگ شب قدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نوافل پڑھیں گے ان کے بھی سارے پہلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں رمضان کے روزوں ، اس کی راتوں کے نوافل اور خصوصیت سے شب قدر کے نوافل کو پچھلے گناہوں کی مغفرت اور معافی کا یقینی وسیلہ بتایا گیا ہے بشرطیکہ یہ روزے اور نوافل ایمان و احتساب کے ساتھ ہوں .... یہ ایمان و احتساب خاص دینی اصطلاحیں ہیں ، اور ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو نیک عمل کیا جائے اس کی بنیاد اور اس کا محرک بس اللہ و رسول کو ماننا اور اس کے وعدہ وعید پر یقین لانا اور ان کو بتائے ہوئے اجر و ثواب کی طمع اور امید ہی ہو ، کوئی دوسرا جذبہ اور مقصد اس کا محرک نہ ہو ۔ اسی ایمان و احتساب سے ہمارے اعمال کا تعلق اللہ تعالیٰ سے جڑتا ہے ، بلکہ یہی ایمان و احتساب ہمارے اعمال کے قلب و روح ہیں ، اگر یہ نہ ہوں تو پھر ظاہر کے لحاظ سے بڑے سے بڑے اعمال بھی بے جان اور کھوکھلے ہیں جو خدانخواستہ قیامت کے دن کھوٹے سکے ثابت ہوں گے اور ایمان و احتساب کے ساتھ بندوں کا ایک عمل بھی اللہ کے ہاں اتنا عزیز اور قیمتی ہے کہ اس کے صدقہ اور طفیل میں اس کے برسہا برس کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ایمان و احتساب کی یہ صفت اپنےفضل سے نصیب فرمائے ۔
تشریح
اس حدیث میں رمضان کے روزوں ، اس کی راتوں کے نوافل اور خصوصیت سے شب قدر کے نوافل کو پچھلے گناہوں کی مغفرت اور معافی کا یقینی وسیلہ بتایا گیا ہے بشرطیکہ یہ روزے اور نوافل ایمان و احتساب کے ساتھ ہوں .... یہ ایمان و احتساب خاص دینی اصطلاحیں ہیں ، اور ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو نیک عمل کیا جائے اس کی بنیاد اور اس کا محرک بس اللہ و رسول کو ماننا اور اس کے وعدہ وعید پر یقین لانا اور ان کو بتائے ہوئے اجر و ثواب کی طمع اور امید ہی ہو ، کوئی دوسرا جذبہ اور مقصد اس کا محرک نہ ہو ۔ اسی ایمان و احتساب سے ہمارے اعمال کا تعلق اللہ تعالیٰ سے جڑتا ہے ، بلکہ یہی ایمان و احتساب ہمارے اعمال کے قلب و روح ہیں ، اگر یہ نہ ہوں تو پھر ظاہر کے لحاظ سے بڑے سے بڑے اعمال بھی بے جان اور کھوکھلے ہیں جو خدانخواستہ قیامت کے دن کھوٹے سکے ثابت ہوں گے اور ایمان و احتساب کے ساتھ بندوں کا ایک عمل بھی اللہ کے ہاں اتنا عزیز اور قیمتی ہے کہ اس کے صدقہ اور طفیل میں اس کے برسہا برس کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ایمان و احتساب کی یہ صفت اپنےفضل سے نصیب فرمائے ۔
893
Maarif ul Hadithعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَقُولُ الصِّيَامُ : أَيْ رَبِّ ، إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ : مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ فَيُشَفَّعَانِ "
(رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روزہ اور قرآن دونوں بندے کی سفارش کریں گے (یعنی اس بندے کی جو دن میں روزے رکھے گا اور رات میں اللہ کے حضور میں کھڑے ہوکر اس کا پاک کلام قران مجید پڑھے گا یا سنے گا) روزہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور نفس کی خواہش پورا کرنے سے روکے رکھا تھا ، آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما (اور اس کے ساتھ مغفرت و رحمت کا معاملہ فرما) اور قرآن کہے گا کہ میں نے اس کو رات کو سونے اور آرام کرنے سے روکے رکھا تھا ، خداوندا ! آج اس کی حق میں میری سفارش قبول فرما (اور اس کے ساتھ بخشش اور عنایت کا معاملہ فرما) چنانچہ روزہ اور قرآن دونوں کی سفارش اس بندہ کے حق میں قبول فرمائی جائے گی (اور اس کے لیے جنت اور مغفرت کا فیصلہ فرما دیا جائے گا) اور خاص مراحم خسروانہ سے اس کو نوازا جائے گا ۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
کیسے خوش نصیب ہیں وہ بندے جن کے حق میں ان کے روزوں کی اور نوافل میں ان کے پڑھے ہوئے یا سنے ہوئے قرآن پاک کی سفارش قبول ہو گی ، یہ ان کے لیے کیسی مسرت اور فرحت کا وقت ہو گا .... اللہ تعالیٰ اپنے اس سیاہ کار بندے کو بھی محض اپنے کرم سے ان خوش بختوں کے ساتھ کر دے ۔
تشریح
کیسے خوش نصیب ہیں وہ بندے جن کے حق میں ان کے روزوں کی اور نوافل میں ان کے پڑھے ہوئے یا سنے ہوئے قرآن پاک کی سفارش قبول ہو گی ، یہ ان کے لیے کیسی مسرت اور فرحت کا وقت ہو گا .... اللہ تعالیٰ اپنے اس سیاہ کار بندے کو بھی محض اپنے کرم سے ان خوش بختوں کے ساتھ کر دے ۔
894
Maarif ul Hadithعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلاَ مَرَضٍ ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَإِنْ صَامَهُ.
(رواه احمد والترمذى وابوداؤد وابن ماجه والدارمى والبخارى فى ترجمة باب)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی سفر وغیرہ کی شرعی رخصت کے بغیر اور بیماری (جیسے کسی عذر کے بغیر رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑے گا) وہ اگر اس کے بجائے عمر بھر بھی روزے رکھے تو جو چیز فوت ہو گئی وہ پوری ادا نہیں ہو سکتی .... (مسند احمد ، جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد ، سنن ابن ماجہ ، سنن دارمی) (اور صحیح بخاری میں بھی بغیر سند کے ایک ترجمہ باب میں اس حدیث کا ذکر کیا گیا ہے) ۔
تشریح
حدیث کا مدعا اور مطلب یہ ہے کہ شرعی عذر اور رخصت کے بغیر رمضان کا ایک روزہ دانستہ چھوڑنے سے رمضان مبارک کی خاص برکتوں اور اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص رحمتوں سے جو محرومی ہوتی ہے ، عمر بھر نفل روزے رکھنے سے بھی اس محرومی اور خسران کی تلافی نہیں ہو سکتی ، اگرچہ ایک روزے کی قانونی قضا ایک ہی دن کا روزہ ہے ، لیکن اس سے وہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا جو روزہ چھوڑنے سے کھو گیا .... پس جو لوگ بے پروائی کے ساتھ رمضان کے روزے چھوڑتے ہیں وہ سوچیں کہ اپنے کو وہ کتنا نقصان پہنچاتے ہیں ۔
تشریح
حدیث کا مدعا اور مطلب یہ ہے کہ شرعی عذر اور رخصت کے بغیر رمضان کا ایک روزہ دانستہ چھوڑنے سے رمضان مبارک کی خاص برکتوں اور اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص رحمتوں سے جو محرومی ہوتی ہے ، عمر بھر نفل روزے رکھنے سے بھی اس محرومی اور خسران کی تلافی نہیں ہو سکتی ، اگرچہ ایک روزے کی قانونی قضا ایک ہی دن کا روزہ ہے ، لیکن اس سے وہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا جو روزہ چھوڑنے سے کھو گیا .... پس جو لوگ بے پروائی کے ساتھ رمضان کے روزے چھوڑتے ہیں وہ سوچیں کہ اپنے کو وہ کتنا نقصان پہنچاتے ہیں ۔