عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ".
(رواه الترمذى)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ۔ ایک سال آپ اعتکاف نہیں کر سکے ، تو اگلے سال بیس دن تک اعتکاف فرمایا ۔ (جامع ترمذی)
تشریح
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ایک سال اعتکاف نہ ہو سکنے کی کیا وجہ پیش ائی تھی ۔ سنن نسائی اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں حضرت ابی بن کعب کی ایک حدیث مروی ہے اس میں تصریح ہے کہ ایک سال رمضان کے عشرہ اخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سفر کرنا پڑ گیا تھا اس کی وجہ سے اعتکاف نہیں ہو سکا تھا اس لیے اگلے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا ۔
اور صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس سال کے رمضان میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا تھا ۔ یہ بیس دن کا اعتکاف غالباً اس وجہ سے فرمایا تھا کہ آپ کو یہ اشارہ مل چکا تھا کہ عنقریب آپ کو اس دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اس لیے اعتکاف جیسے اعمال کا شغف بڑھ جانا بالکل قدرتی بات تھی ؎
وعدہ وصل چوں شود نزدیک
آتش شوق تیز تر گردد