عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : « تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ » ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَ الأَذَانِ وَالسَّحُورِ؟ " قَالَ : « قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کے ساتھ سحری کھائی ، پھر (جلد ہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لیے کھڑے ہوگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ سحری کھانے اور فجر کی اذان کے درمیان کتنا وقفہ رہا ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : پچاس آیتوں کی تلاوت کے بقدر ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
صحت مخارج اور قواعد قرات کے لحاظ کے ساتھ پچاس آیات کی تلاوت میں پانچ منٹ سے بھی کم وقت صرف ہوتا ہے ، اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سحری اور اذان فجر کے درمیان صرف چار پانچ منٹ کا فصل تھا ۔