عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : جس نے روزہ کی ھالت میں بھول کر کچھ کھا لیا یا پی لیا تو (اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹا ، اس لیے) وہ قاعدہ کے مطابق اپنا روزہ پورا کرے ، کیوں کہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے (اس نے خود ارادہ کر کے روزہ نہیں توڑا ہے ، اس لیے اس کا روزہ علیٰ حالہ ہے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں شبہ ہو سکتا ہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہو گا ، یا اس میں کچھ خرابی آ جاتی ہو گی ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات یا عمل سے واضح فرما دیا کہ ان چیزوں سے روزہ میں کوئی خرابی نہیں آتی ۔ اس سلسلہ میں چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے ۔