عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ، وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ ، أَوْ مِنَ الْحَرِّ.
(رواه مالك وابوداؤد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے اور پیاس یا گرمی کی (شدت) کی وجہ سے سر مبارک پر پانی بہا رہے تھے ۔ (مؤطا امام مالک ، سنن ابی داؤد)
تشریح
معلوم ہوا کہ روزہ کی حالت میں پیاس یا گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے سر پر پانی ڈالنا اور اس قسم کی دوسری تدابیر کرنا جائز ہے ۔اور یہ روزہ کی روح کے بھی خلاف نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کے بعض اعمال اس لیے بھی کرتے تھے کہ اس طرز عمل سے اپنی عاجزی ظاہر ہوتی ہے جو بندگی کی روح ہے .... اللہ رحمتیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کا سلام ۔
عرج ، مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے تین منزل پر ایک آباد موضع تھا ، اس لیے یہ واقعہ کسی سفر کا ہے ، ہو سکتا ہے کہ فتح مکہ والے سفر ہی کا ہو ، جو رمضان مبارک میں ہوا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام عسفان پہنچنے تک برابر روزے رکھے تھے ۔