عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ فَقَالَ : « فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ » (رواه مسلم)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : میں پیر ہی کے دن پیدا ہوا ، اور پیر ہی کے دن سے مجھ پر قرآن کا نزول شروع ہوا ۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ پیر کا دن بڑی برکت اور رحمت والا دن ہے ، اسی دن میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی اور اسی دن کتاب اللہ کا نزول شروع ہوا ، پھر اس دن کے روزے کا کیا پوچھنا ! .... اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو پیر کے دن (کبھی کبھی یا اکثر) روزہ رکھتےتھے تو اس کا ایک محرک تو وہ تھا جس کا اوپر کی حدیث میں ذکر آیا ، یعنی یہ کہ “ اس دن اعمال کی ایک پیشی ہوتی ہے اور آپ چاہتے تھے کہ اس پیشی کے دن آپ روزہ کی حالت میں ہوں ” ۔ اور دوسرا محرک اللہ تعالیٰ کی ان دو عظیم نعمتوں (ولادت اور وحی و نبوت) کے شکر کا جذبہ بھی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیر ہی کے دن عطا ہوئیں اور جو ساری دنیا کے لیے بھی نعمت اور رحمت ہے .... وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ