hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 15511

265. حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام کی مرویات۔

مسند احمد

15511
Musnad Imam Ahmad
قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ سَمِعَ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ قَالَ سُفْيَانُ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ حَثْمَةَ يُخْبِرُ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَوُجِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ فَجَاءَ عَمَّاهُ وَأَخُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْكِبَرَ الْكِبَرَ فَتَكَلَّمَ أَحَدُ عَمَّيْهِ إِمَّا حُوَيِّصَةُ وَإِمَّا مُحَيِّصَةُ قَالَ سُفْيَانُ نَسِيتُ أَيُّهُمَا الْكَبِيرُ مِنْهُمَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلُبِ خَيْبَرَ ثُمَّ ذَكَرَ يَهُودَ وَشَرَّهُمْ وَعَدَاوَتَهُمْ قَالَ لِيُقْسِمْ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ قَالُوا كَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَ قَالَ فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَحْلِفُونَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ قَالُوا كَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَرَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهُ قِيلَ لِسُفْيَانَ فِي الْحَدِيثِ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ قَالَ هُوَ ذَا
حضرت سہل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن سہل انصاری خیبر کے وسط میں متقول پائے گئے ان کے دو چچازاد بھائی نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان کے بھائی کا نام عبدالرحمن بن سہل اور چچاؤں کے نام حویصہ اور محیصہ تھے نبی ﷺ کے سامنے عبدالرحمن بولنے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا بڑوں کو بولنے دو چناچہ ان کے چچاؤں میں سے کسی ایک نے گفتگو شروع کی یہ میں بھول گیا کہ ان میں سے بڑا کون تھا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم نے قلب خبیر میں عبداللہ کی لاش پائی ہے پھر انہوں نے یہودیوں کے شر اور عداوتوں کا ذکر کیا نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر کہہ دیں کہ اس کو یہودیوں نے قتل کیا ہے وہ کہنے لگے ہم نے جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں ہے اس پر قسم کیسے کھاسکتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا پھر پچاس یہودی اس بات کی قسم کھا کر برائت ظاہر کردیں اور کہہ دیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ہم ان کی قسم پر کیسے اعتماد کرسکتے ہیں وہ تو مشرک ہیں اس پر نبی ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی دیت کے ان اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹ نے مجھے ٹانگ مار دی تھی۔