Musnad Imam Ahmad
265. حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام کی مرویات۔
مسند احمد
15518
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي أَبَا مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَسِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَفْتِنَا فِي نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ
ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے کہا کہ مٹکے کی نبیذ کے متعلق ہمیں فتوی دیجیے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اس کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے۔
15519
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ وَأَنَا شَاهِدٌ سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ وَزِيَادَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو هَكَذَا وَعَقَدَ ابْنُ الزُّبَيْرِ
حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے نماز کے آغاز میں رفع یدین کیا یہاں تک کہ کانوں سے آگے ہاتھوں کو بڑھالیا۔ حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو اس طرح دعا کرتے ہوئے دیکھا ہے یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا۔
15520
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَلَمْ يُجَاوِزْ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ
حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو اپناداہنا ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھ لیتے شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نگاہیں اس اشارے سے آگے نہیں جانے دیتے تھے۔
15521
Musnad Imam Ahmadقَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا حَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كَاذِبًا فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ قَبْلِ التَّوْحِيدِ
حضرت عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے ایک جھوٹی قسم ان الفاظ کے ساتھ کھائی اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو اس کے یہ کلمہ توحید پڑھنے کی برکت سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
15522
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَاحْجُجْ عَنْهُ
حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا تم اپنے باپ کے سب سے بڑے بیٹے ہو اس لئے ان کی طرف سے حج کرو۔
15523
Musnad Imam Ahmadقَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَنَهَى عَنْ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ وَمَا عِلْمُ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَذَا فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَلْيَسْأَلْهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا وَحَلَّتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ فَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَقَدْ أَفْحَشَ قَدْ وَاللَّهِ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوا النِّسَاءَ
ابواسحق بن یسار کہتے ہیں کہ ہم اس وقت مکہ مکرمہ میں ہی تھے جب حضرت عبداللہ بن زبیر ہمارے یہاں تشریف لائے انہوں نے ایک ہی سفر میں حج وعمرہ کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا حضرت ابن عباس کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ ابن زبیر کو اس مسئلے کا کیا پتہ انہیں یہ مسئلہ اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر سے معلوم کرنا چاہیے اگر حضرت زبیر ان کے پاس حلال ہونے کی صورت میں نہیں آتے تھے تو کیا تھا حضرت اسماء کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اللہ ابن عباس کی بخشش فرمائے واللہ انہوں نے بےہودہ بات کی گو کہ بات سچی ہے کہ عمرو بھی حلال ہوگئے تھے اور ہم عورتیں بھی اور مرد اپنی بیویوں کے پاس آئے تھے۔
15524
Musnad Imam Ahmadقَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ عَمْرِو بْنِ الزُّبَيْرِ خُصُومَةٌ فَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَعَمْرُو بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ سَعِيدٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ هَاهُنَا فَقَالَ لَا قَضَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيْ الْحَكَمِ
مصعب بن ثابت کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کے بھائی عمرو بن زبیر میں کچھ جھگڑا چل رہا تھا اس دوران حضرت عبداللہ بن زبیر ایک مرتبہ سعید بن عاص کے پاس گئے ان کے ساتھ تخت پر عمرو بن زبیر بھی بیٹھے ہوئے تھے سعید نے انہیں بھی اپنے قریب بلایا لیکن انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ کا فیصلہ اور سنت یہ ہے کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بیٹھیں۔
15525
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ وَلَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کا سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی کی حکومت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہ سے بچنے اور نیکی پر عمل کرنے کی قدرت صرف اللہ ہی سے مل سکتی ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں اسی کا احسان اور مہربانی ہے اور اسی کی بہترین تعریف ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہم خالص اسی کے لئے عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافروں کو اچھا نہ لگے اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺ بھی ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔
15526
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَمَا كَانَ عُمَرُ يَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ
حضرت عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ آیت قرآنی اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آوازوں سے اونچا نہ کیا کرو کے نزول کے بعد حضرت عمر جب بھی نبی ﷺ سے کوئی بات کرتے تو اتنی پست آواز سے کہ نبی ﷺ کو دوبارہ پوچھنا پڑتا۔
15527
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ فُرَاتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فُرَاتٌ الْقَزَّازُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ جَعَلَهُ عَلَى الْقَضَاءِ إِذْ جَاءَهُ كِتَابُ ابْنِ الزُّبَيْرِ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْجَدِّ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا دُونَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ وَلَكِنَّهُ أَخِي فِي الدِّينِ وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا وَأَحَقُّ مَا أَخَذْنَاهُ قَوْلُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عبداللہ بن عقبہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کا خط آیا حضرت ابن زبیر نے انہیں اپنی طرف سے قاضی مقرر کر رکھا تھا اس خط میں لکھا تھا کہ حمدوصلوۃ کے بعد تم نے مجھ سے داداکا حکم معلوم کرنے کے لئے خط لکھا ہے سو نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا اگر میں اپنے رب کے علاوہ اس امت میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا لیکن وہ میرے دینی بھائی ہیں اور رفیق غار ہیں حضرت صدیق اکبر نے داداکو باپ ہی قرار دیا ہے اور حق بات یہ ہے کہ اس میں جو قول سب سے زیادہ حقیقت کے قریب ہمیں محسوس ہوا وہ حضرت صدیق اکبر کا ہی ہے۔