hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 1877

25. عبداللہ بن عباس کی مرویات

مسند احمد

1877
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ وَكِيعٌ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ الْبَوْلِ قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا قَالَ وَكِيعٌ تَيْبَسَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قَبْرِهِمَا فَذَكَرَهُ وَقَالَ حَتَّى يَيْبَسَا أَوْ مَا لَمْ يَيْبَسَا
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر دو قبروں پر ہوا، فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا، اس کے بعد نبی ﷺ نے ایک ٹہنی لے کر اسے چیر کردو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر قبر پر ایک ایک حصہ گاڑھ دیا، لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا شاید ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف رہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکورہ ہوئی۔