hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

25. عبداللہ بن عباس کی مرویات

مسند احمد

1741
Musnad Imam Ahmad
أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُذْهِبِ الْوَاعِظُ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ وَمُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔
1742
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَجْلَحُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی ﷺ نے فرمایا کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے ؟ یوں کہو جو اللہ تنہا چاہے۔
1743
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے حکمت و دانائی کی دعاء فرمائی۔
1744
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ وَأَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ اسْقُونِي فَقَالُوا إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنْ الْبَيْتِ فَقَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ ﷺ کے پاس تھی، پھر آپ ﷺ کنوئیں پر تشریف لائے اور فرمایا مجھے پانی پلاؤ، لوگوں نے کہا کہ اس کنوئیں میں تو لوگ گھستے ہیں، ہم آپ کے لئے بیت اللہ سے پانی لے کر آتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے اسی جگہ سے پانی پلاؤ جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔
1745
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سنی سنائی خبر عینی مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتی۔
1746
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ قَالَ فَأَخَذَ بِذُؤَابَةٍ كَانَتْ لِي أَوْ بِرَأْسِي حَتَّى جَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں رات کو رک گیا، اس دن نبی ﷺ رات کو ان ہی کے یہاں تھے، رات کو آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے میرے بالوں کی ایک لٹ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔
1747
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خُيِّرَتْ بَرِيرَةُ رَأَيْتُ زَوْجَهَا يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَكُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِيُكَلِّمَ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَرِيرَةَ إِنَّهُ زَوْجُكِ فَقَالَتْ تَأْمُرُنِي بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ قَالَ فَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا وَكَانَ عَبْدًا لِآلِ الْمُغِيرَةِ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت بریرہ (رض) کو خیار عتق مل گیا ( اور اس کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر مغیث سے علیحدگی اختیار کرلی) تو میں نے اس کے شوہر کو دیکھا کہ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا، اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، لوگوں نے حضرت عباس (رض) سے اس سلسلے میں نبی ﷺ سے بات کرنے کے لئے کہا، چناچہ نبی ﷺ نے حضرت بریرہ (رض) سے کہا کہ وہ تمہارا شوہر ہے، حضرت بریرہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس کا حکم دے رہے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں اور انہیں اختیار دے دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا، حضرت بریرہ (رض) کا شوہر آل مغیرہ کا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا۔
1748
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے ؟
1749
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی وصال کے وقت عمر مبارک ٦٥ برس تھی۔
1750
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الطَّعَامُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔