hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 25105

1024. حضرت فاطمہ (رض) کی مرویات

مسند احمد

25105
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ تُنْتَهَكُ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی ﷺ اس آدمی سے کبھی انتقام نہ لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی ﷺ کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی ﷺ آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی ﷺ دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ دور ہوتے تھے۔