Musnad Imam Ahmad
1024. حضرت فاطمہ (رض) کی مرویات
مسند احمد
25253
Musnad Imam Ahmadأَخْبَرنَا أَبُو الْقَاسِمِ هِبَةُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ الْحُصَيْنِ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْمُذْهَبِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ الْقُطَيْعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الْفِرَاسِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَقُلْتُ لَهَا اسْتَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ ثُمَّ تَبْكِينَ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيَّ فَقَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يُعَارِضُنِي بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ ثُمَّ قَالَ أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ سامنے سے چلی آرہی تھیں اور ان کی چال بالکل نبی ﷺ کی طرح تھی، نبی ﷺ نے انہیں دیکھ کر فرمایا میری بیٹی کو خوش آمدید، پھر نبی ﷺ نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھالیا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اسی دوران حضرت فاطمہ رونے لگیں، میں نے ان سے کہا کہ نبی ﷺ خصوصیت کے ساتھ صرف تم سے سرگوشی فرما رہے ہیں اور تم پھر بھی رو رہی ہو، نبی ﷺ ان کے ساتھ دوبارہ سرگوشی فرمانے لگے اس مرتبہ وہ ہنسنے لگیں، میں نے کہا کہ جس طرح غم کے اتنا قریب خوشی کو میں نے آج دیکھا ہے اب سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کیا فرمایا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کا راز کسی کے سامنے بیان نہیں کروں گی۔
25254
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أَمَّا حَيْثُ بَكَيْتُ فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَضَحِكْتُ
جب نبی ﷺ کا وصال ہوگیا تو میں نے دوبارہ ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے مجھے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر سال میرے ساتھ قرآن کریم کا دور ایک مرتبہ کرتے تھے جبکہ اس سال دو مرتبہ کیا میرا خیال ہے کہ میرا وقت آخرقر یب آگیا ہے اور میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے آ کر ملو گی اور میں تمہارا بہترین پیشواہوں گا میں اسی بات پر روئی تھی اور پھر انہوں نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم اس امت کی تمام عورتوں کی سردار ہو اس پر میں ہنسنے لگی تھی۔
25255
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ وَكِلَاهُمَا كَانَ ثِقَةً قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ سَفَرٍ فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِلَحْمٍ مِنْ ضَحَايَاهَا فَقَالَ أَوَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا قَالَتْ فَدَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ كُلْهَا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اسی دوران حضرت فاطمہ رونے لگیں نبی ﷺ ان کے ساتھ دوبارہ سرگوشی فرمانے لگے اس مرتبہ وہ ہنسنے لگیں میں نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کیا فرمایا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے مجھے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ میرا خیال ہے کہ میرا وقت آخر قریب آگیا ہے اس پر میں رونے لگی، پھر فرمایا اور میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے آکر ملو گی، اس پر میں ہنسنے لگی تھی۔
25256
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ ابْنَةِ حُسَيْنٍ عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ كَانَ إِذَا دَخَلَ قَالَ رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ قَالَ رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ
ام سلیمان کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئی اور ان سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ابتداء اس کی ممانت فرمائی تھی بدلہ میں اس کی اجازت دیدی تھی چناچہ ایک مرتبہ حضرت علی سفر سے واپس آئے تو حضرت فاطمہ ان کے لیے قربانی کے جانور کا گوشت لے کر آئیں حضرت علی نے فرمایا کیا نبی ﷺ نے اس سے منع نہیں فرمایا ہے ؟ حضرت فاطمہ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اس کی اجازت دیدی ہے اس پر حضرت علی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا ایک ذی الحجہ سے اگلے ذی الحجہ تک اسے کھا سکتے ہو۔
25257
Musnad Imam Ahmadقَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ
حضرت فاطمہ الزہراء سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مسجد میں دخل ہوتے تو پہلے درود وسلام پڑھتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے اور جب مسجد سے نکلتے تب بھی پہلے درود وسلام پڑھتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما اور اپنے فضل کے دروازے میرے لئے کھول دے۔
25258
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ فَاطِمَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ عَرْقًا فَجَاءَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ لِيُصَلِّيَ فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ يَا أَبَهْ أَلَا تَتَوَضَّأُ فَقَالَ مِمَّ أَتَوَضَّأُ يَا بُنَيَّةُ فَقُلْتُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ فَقَالَ لِي أَوَلَيْسَ أَطْيَبُ طَعَامِكُمْ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ
حضرت فاطمہ الزہراء سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مسجد میں دخل ہوتے تو پہلے درود وسلام پڑھتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے اور جب مسجد سے نکلتے تب بھی پہلے درود وسلام پڑھتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما اور اپنے فضل کے دروازے میرے لئے کھول دے۔ حضرت فاطمہ الزہراء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال نماز کی اطلاع دینے کے لئے آگئے نبی ﷺ نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے میں نے ان کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا اباجان کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا پیاری بیٹی کس چیز کی وجہ سے وضو کروں میں نے عرض کیا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی وجہ سے نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہارا سب سے پاکیزہ کھانا وہ نہیں ہوتا جو آگ پر پکا ہو ؟
25259
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ عَنْ فَاطِمَةَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ
حضرت فاطمہ الزہراء سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مسجد میں دخل ہوتے تو پہلے درود وسلام پڑھتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے اور جب مسجد سے نکلتے تب بھی پہلے درود وسلام پڑھتے پھر یہ دعاء پڑھتے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما اور اپنے فضل کے دروازے میرے لئے کھول دے۔
25260
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ
ابن امیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ حضرت صدیق اکبر کے یہاں گئیں اور انہیں بتایا کہ نبی ﷺ نے مجھے بتایا تھا کہ میرے اہل بیت میں سے پہلے تم ہی مجھ سے آکر ملو گی۔
25261
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ كَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَنْسَخَ إِلَيْهِ وَصِيَّةَ فَاطِمَةَ فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهَا السِّتْرُ الَّذِي يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهَا أَحْدَثَتْهُ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَ
محمد بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمربن عبد العزیز نے مجھے خط لکھا کہ میں انہیں حضرت فاطمہ کی وصیت لکھ بھیجوں حضرت فاطمہ کی وصیت میں اس پردے کا بھی ذکر تھا جو لوگوں کے خیال کے مطابق انہوں نے اپنے دروازے پر لٹکایا تھا اور نبی ﷺ اسے دیکھ کر گھر میں داخل ہوئے بغیر ہی واپس چلے گئے تھے۔
25262
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَانَتْ فَاطِمَةُ تَنْقُزُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَتَقُولُ بِأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ اپنے بیٹے حسن کو اچھالتی جا رہی تھیں اور یہ شعر پڑھتی جارہی تھیں کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ بچہ نبی ﷺ کے مشابہ ہے حضرت علی کے مشابہ نہیں ہے۔