حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنِي سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ فُلَانٌ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ قَالَ فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ قَالَ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا قَالَ وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أَخِي إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی ﷺ کے پیچھے فلاں (فضل) سوار تھا، وہ نوجوان، عورتوں کو دیکھنے لگا، نبی ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس کا چہرہ پیچھے کی طرف کئی مرتبہ پھیرا لیکن وہ پھر بھی کن اکھیوں سے انہیں دیکھتا رہا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا بھتیجے ! آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔