hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 4275

28. حضرت ابورمثہ (رض) کی مرویات

مسند احمد

4275
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْأَرْضَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنْ التِّبْنِ لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ وَإِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعَهْدِ عُمَرَ وَعَهْدِ عُثْمَانَ وَصَدْرِ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِهَا بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعًا يُحَدِّثُ فِي ذَلِكَ بِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا فَكَانَ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں اس بات کو جانتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں گھاس اور تھوڑے سے بھوسے کے عوض زمین کو کرایہ پردے دیا جاتا تھا جس کی مقدار مجھے یاد نہیں خود حضرت ابن عمر (رض) بھی دور صدیقی و فاروقی و عثمانی اور حضرت امیر معاویہ (رض) کے ابتدائی دور حکومت میں زمین کرائے پر دیا کرتے تھے لیکن حضرت امیر معاویہ (رض) کے آخری دور میں انہیں پتہ چلا کہ حضرت رافع بن خدیج (رض) زمین کو کرائے پر دینے میں نبی کریم ﷺ کی ممانعت روایت کرتے ہیں تو وہ ان کے پاس آئے میں بھی ان کے ساتھ تھا انہوں نے حضرت خدیج بن رافع (رض) سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! نبی کریم ﷺ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے یہ سن کر حضرت ابن عمر (رض) نے یہ کام چھوڑ دیا اور بعد میں وہ کسی کو بھی زمین کرائے پر نہ دیتے تھے اور جب کوئی ان سے پوچھتا تو وہ فرما دیتے کہ حضرت رافع بن خدیج (رض) کا یہ خیال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔