Musnad Imam Ahmad
28. حضرت ابورمثہ (رض) کی مرویات
مسند احمد
6807
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ بِرَأْسِهِ رَدْعَ حِنَّاءٍ
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نکلا ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے میں نے نبی کریم ﷺ کے سر مبارک پر مہندی کا اثر دیکھا۔
6808
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ وَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو يَرْبُوعٍ قَتَلَةُ فُلَانٍ قَالَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى و قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دینے والا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور قریبی رشتہ داروں کو دیا کرو ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ یہ بنی یربوع ہیں جو فلاں آدمی کے قاتل ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یاد رکھو ! کوئی نفس دوسرے پر جنایت نہیں کرتا ایک روایت میں اس طرح بھی ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی کریم ﷺ خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ دینے والا ہاتھ اوپر ہوتا ہے۔
6809
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمُونَ فِي دَمٍ فَقَالَ الْيَدُ الْعُلْيَا أُمُّكَ وَأَبُوكَ وَأُخْتُكَ وَأَخُوكَ وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ قَالَ فَنَظَرَ فَقَالَ مَنْ هَذَا مَعَكَ أَبَا رِمْثَةَ قَالَ قُلْتُ ابْنِي قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَذَكَرَ قِصَّةَ الْخَاتَمِ
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں قبیلہ ربیعہ کے کچھ لوگ قتل کا ایک مقدمہ لے کر آئے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے دینے والا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور قریبی رشتہ داروں کو دیا کرو پھر نبی کریم ﷺ نے دیکھ کر فرمایا ابورمثہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرا بیٹا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی جنایت کے تم اور تمہاری جنایت کا یہ ذمہ دار نہیں پھر انہوں نے مہر نبوت کا واقعہ ذکر کیا۔
6810
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ السَّدُوسِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رِمْثَةَ التَّيْمِيَّ قَالَ جِئْتُ مَعَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَتُحِبُّهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کیا یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تمہیں اس سے محبت ہے ؟ عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار نہیں اور تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار نہیں۔
6811
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ مِنْ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمُونَ فِي دَمِ الْعَمْدِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ ثُمَّ قَالَ فَنَظَرَ ثُمَّ قَالَ مَنْ هَذَا مَعَكَ يَا أَبَا رِمْثَةَ فَقُلْتُ ابْنِي قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي نُغْضِ كَتِفِهِ مِثْلُ بَعْرَةِ الْبَعِيرِ أَوْ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ فَقُلْتُ أَلَا أُدَاوِيكَ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ نُطَبِّبُ فَقَالَ يُدَاوِيهَا الَّذِي وَضَعَهَا
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں قبیلہ ربیعہ کے کچھ لوگ قتل کا ایک مقدمہ لے کر آئے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا دینے والا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اپنے ماں باپ بہن بھائی اور قریبی رشتہ داروں کو دیا کرو پھر نبی کریم ﷺ نے دیکھ کر فرمایا ابورمثہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرا بیٹا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی جنایت کے تم اور تمہاری جنایت کا یہ ذمہ دار نہیں پھر میں نے غور کیا تو نبی کریم ﷺ کے کندھے کی باریک ہڈی میں اونٹ کی مینگنی یا کبوتری کے انڈے کے برابر ابھرا ہوا گوشت نظر آیا میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کا علاج نہ کردوں کیونکہ ہمارا خاندان اطباء کا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا علاج وہی کرے گا جس نے اسے لگایا ہے۔
6812
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ لِي أَبِي هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا فَقَالَ لِي أَبِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَاكَ وَكُنْتُ أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا بَشَرٌ لَهُ وَفْرَةٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي ثُمَّ جَلَسْنَا فَتَحَدَّثْنَا سَاعَةً ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ابْنُكَ هَذَا قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ حَقًّا قَالَ أَشْهَدُ بِهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي بِأَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى مِثْلِ السِّلْعَةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَطَبُّ الرِّجَالِ أَلَا أُعَالِجُهَا لَكَ قَالَ لَا طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میری نظر جب ان پر پڑی تو والد صاحب نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا نہیں والد صاحب نے بتایا کہ یہ نبی کریم ﷺ ہیں یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے میں نبی کریم ﷺ کو کوئی ایسی چیز سمجھتا تھا جو انسانوں کے مشابہہ نہ ہو لیکن وہ تو کامل انسان تھے ان کے لمبے لمبے بال تھے اور ان کے سر مبارک پر مہندی کا اثر تھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے میرے والد صاحب نے انہیں سلام کیا اور بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے میرے والد صاحب سے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں رب کعبہ کی قسم نبی کریم ﷺ نے فرمایا واقعی ؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتاہوں اس پر نبی کریم ﷺ مسکرادیئے کیونکہ میری شکل صورت اپنے والد سے سے ملتی جلتی تھی پھر میرے والد صاحب نے اس پر قسم بھی کھالی تھی پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا یاد رکھو تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو اور یہ آیت تلاوت فرمائی کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ " پھر میرے والد صاحب نے نبی کریم ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان کچھ ابھرا ہوا حصہ دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھا جاتا ہوں کیا میں آپ کا علاج کر کے (اسے ختم نہ) کردوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے۔
6813
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ فَأَرِنِي هَذِهِ السِّلْعَةَ الَّتِي بِظَهْرِكَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهَا قَالَ أَقْطَعُهَا قَالَ لَسْتَ بِطَبِيبٍ وَلَكِنَّكَ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي وَضَعَهَا وَقَالَ غَيْرُهُ الَّذِي خَلَقَهَا
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لڑکپن میں اپنے والد صاحب کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے والد صاحب نے عرض کیا یا رسول اللہ میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھا جاتا ہوں کیا میں آپ کی پشت پر یہ جو گوشت ابھرا ہوا حصہ ہے مجھے دیکھائیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ میں اسے کاٹ دوں گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم طبیب نہیں رفیق ہو اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے۔
6814
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ تَيْمَ الرِّبَابِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنِي فَأَرَانِيهِ إِيَّاهُ فَقُلْتُ لِابْنِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ هَيْبَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ أَطِبَّاءَ فَأَرِنِي ظَهْرَكَ فَإِنْ تَكُنْ سِلْعَةً أَبُطُّهَا وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ أَخْبَرْتُكَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ إِنْسَانٍ أَعْلَمَ بِجُرْحٍ أَوْ خُرَاجٍ مِنِّي قَالَ طَبِيبُهَا اللَّهُ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ لَهُ شَعَرٌ قَدْ عَلَاهُ الْمَشِيبُ وَشَيْبُهُ أَحْمَرُ فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا قُلْتُ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ ابْنُ نَفْسِكَ قُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ فَإِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے اسے نبی کریم ﷺ کو دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ نبی کریم ﷺ ہیں اس پر ہیبت کی وجہ سے وہ مرطوب ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں لوگوں میں ایک بڑا طبیب سمجھا جاتاہوں اطباء کے گھرانے سے میرا تعلق ہے آپ مجھے اپنی پشت دکھائیے اگر یہ پھوڑا ہوا تو میں اسے دبا دوں گا ورنہ آپ کو بتادوں گا کیونکہ اس وقت زخموں کا مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا معالج وہی ہے جس نے اسے بنایا ہے ان کے لمبے لمبے بال تھے اور ان کے سر مبارک پر مہندی کا اثر تھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں رب کعبہ کی قسم نبی کریم ﷺ نے فرمایا واقعی ؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتاہوں اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا یاد رکھو تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو۔
6815
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ حَجَجْتُ فَرَأَيْتُ رَجُلًا جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ أَبِي تَدْرِي مَنْ هَذَا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ إِذَا رَجُلٌ ذُو وَفْرَةٍ بِهِ رَدْعٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حج کیا اور خانہ کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو بیٹھے ہوئے دیکھا میری نظر جب ان پر پڑی تو والد صاحب نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ؟ یہ نبی کریم ﷺ ہیں جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان کے لمبے لمبے بال تھے اور ان کے سر مبارک پر مہندی کا اثر تھا انہوں نے دو سبز کپڑے زیب تن فرما رکھے تھے۔
6816
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا قُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ
حضرت ابورمثہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے۔ ؟ میں نے کہا کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا یاد رکھو ! تمہارے کسی جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور اس کے کسی جرم کے تم ذمہ دار نہیں ہو اور میں نے نبی کریم ﷺ کے بال سرخ دیکھے۔