hadith book logo

Musnad Imam Ahmad: Hadith 5865

28. حضرت ابورمثہ (رض) کی مرویات

مسند احمد

5865
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِ
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں مسجد نبوی کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی اس کی چھت پر ٹہنیاں ڈال دی گئی تھیں اور اس کے ستون کھجور کے درخت کی لکڑی کے تھے حضرت صدیق اکبر (رض) نے اپنے دور خلافت میں اس تعمیر میں کچھ اضافہ نہ کیا حضرت عمر فاروق (رض) نے اس کی تعمیر میں کچھ اضافہ کیا لیکن اس کی بنیاد اسی تعمیر کی بنائی جو نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں تھی یعنی کچی اینٹیں اور ٹہنیاں اور ستونوں میں بھی نئی لکڑی لگوا دی حضرت عثمان غنی (رض) نے سب سے پہلے اس کی عمارت میں تبدیلیاں کیں اور اس میں بہت زیادہ اضافے کئے انہوں نے اس کی دیوار منقش پتھروں اور چونے سے تعمیر کروائی اس کے ستون منقش پتھروں سے بنوائے اور چھت پر ساگوان کی لکڑی ڈالی۔